خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 623
۶۲۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء خطابات شوری جلد دوم میں حقیقت کا اظہار کر دیں اور علی الاعلان سلسلہ سے روگردانی کا دعویٰ کر کے اپنے روپیہ کی واپسی کا مطالبہ کر دیں۔ایسی صورت میں اُن کے دل کی حالت کا اظہار ہو جائے گا اور روپیہ دے کر ہم اُن کے بداثرات سے محفوظ ہو جائیں گے۔جیسے مصری صاحب کے بہت دیر سے پیغامیوں کے ساتھ تعلقات تھے اور اُن کے ساتھ ان کے سمجھوتے بھی تھے مگر ظاہر میں وہ یہی کہتے تھے کہ میں جماعت کو یقین دلاتا ہوں کہ میں احمدیت کی تعلیم پر قائم ہوں۔اُنہی عقائد کو درست تسلیم کرتا ہوں جو جماعت احمدیہ کے ہیں میں تو صرف اصلاح کے لئے چند باتیں پیش کر رہا ہوں حالانکہ اندرونی طور پر اُن کے پیغامیوں کے ساتھ تعلقات تھے۔پس ایسے لوگوں کے دلوں میں اگر لالچ پیدا ہوا تو وہ آپ ہی ہم سے کہہ دیں گے کہ ہمارا روپیہ واپس کر دیا جائے ہم سلسلہ سے روگردان ہوتے ہیں۔پس ایسے لوگ جو پہلے دھوکا سے ہمارے اندر رہتے تھے اُن کو ظاہر کرنے کے لئے یہ قانون بہت مفید رہے گا۔ہم اُن کو اُن کا روپیہ دینے کے لئے بخوشی تیار ہو جائیں گے مگر یہ بات پسند نہیں کریں گے کہ وہ دھوکا اور فریب سے ہمارے اندر ر ہیں اور اس طرح سلسلہ کے نقصان کا باعث بنیں۔میں نے دیکھا ہے شیخ عبدالرحمن صاحب مصری گو بظاہر اخلاص کا دعویٰ کرتے تھے مگر ہمیں پرائیویٹ اطلاعات سے معلوم ہوتا تھا کہ اُن کے پاس دشمنوں کی طرف سے روپیہ آتا ہے اور وہ اُن سے ملتے اور تعلقات رکھتے ہیں۔بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو ہم على الإعلان شائع نہیں کر سکتے کیونکہ اگر ہم ایسا کریں تو مخبروں کا لوگوں کو پتہ لگ جاتا ہے اور بعض دفعہ یوں تو واقعات درست ہوتے ہیں مگر قضائی طور پر ایسے دلائل مہیا نہیں ہوتے جن کے ماتحت کوئی فیصلہ کیا جا سکے۔پس اس قسم کے لوگ جو پہلے منافقانہ طور پر ہماری جماعت میں شامل رہا کرتے تھے اُن کے لئے اس تشریح کے ماتحت ایک لالچ پیدا ہو گیا ہے جس کے نتیجہ میں ممکن ہے وہ خود ہی سلسلہ سے روگردانی کا دعوی کر کے اپنے روپیہ کی واپسی کا مطالبہ کر دیں اور اس طرح ہم اُن کے شر سے محفوظ ہو جائیں۔میرے نزدیک اس تشریح کا ایک اور فائدہ یہ ہوا ہے کہ آئندہ کے لئے ہماری جماعت کو معلوم ہو گیا ہے کہ کس قسم کے لوگوں کو روپیہ واپس کرنے کا حکم ہے پہلے اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھا گیا جس کی وجہ سے بعض جھگڑے بھی پیدا ہوئے۔مثلاً مولوی عمر دین شملوی