خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 625 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 625

خطابات شوری جلد دوم ۶۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء که ریویو آف ریلیجنز اُردو کی آمد کیا ہے؟ اور جب پہلے اسے امداد دی جاتی تھی تو اب وہ امداد کیوں بند کر دی گئی ہے؟ تو یہ اعتراض معقول سمجھا جا سکتا تھا لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ تمام واقعہ میرے ہاتھ سے گزرا ہے اور میں آج سے کئی سال پہلے سے یہ بات جانتا تھا کہ اس بارہ میں جنبہ داری سے کام لیا گیا ہے اس لئے اب اس کے نتیجہ میں اگر کسی کو کوئی تکلیف ہوئی ہے تو اس کا وہ خود ذمہ دار ہے۔کہتے ہیں کوئی شخص کسی درزی کے پاس کپڑا لے کر گیا اور کہنے لگا کہ کیا اس کپڑے کی دوٹوپیاں بن جائیں گی ؟ اُس نے کہا کہ ہاں دوٹو پیاں تیار ہو جائیں گی۔وہ کہنے لگا کیا اس کی تین ٹوپیاں بن سکتی ہیں ؟ درزی نے کہا تین بھی بن سکتی ہیں اس پر وہ کہنے لگا اچھا بتاؤ کیا اس کپڑے کی چارٹو پیاں بن جائیں گی؟ اس نے کہا کہ ہاں آپ چاہیں تو چار ٹوپیاں بھی بن سکتی ہیں۔پھر اس نے پوچھا کہ کیا اس کی پانچ ٹوپیاں بن سکتی ہیں ؟ درزی نے کہا کہ پانچ بھی بن سکتی ہیں۔اسی طرح بڑھتے بڑھتے وہ آٹھ تک پہنچا اور درزی نے پھر بھی یہی کہا کہ ہاں اس کی آٹھ ٹو پیاں بھی بن سکتی ہیں چنانچہ اُس نے کہا بہت اچھا اس کی آٹھ ٹوپیاں تیار کر دو۔درزی نے کپڑا رکھ لیا اور وہ شخص چلا گیا۔جب چند دنوں کے بعد وہ ٹوپیاں لینے کے لئے آیا تو درزی نے چوہے کے سر جیسی آٹھ ٹوپیاں اُس کے سامنے رکھ دیں۔وہ کہنے لگا ہیں یہ کیا، اتنی چھوٹی چھوٹی ٹوپیاں بنانے کے لئے کس نے کہا تھا ؟ درزی نے کہا اپنا کپڑا ناپ لیجئے اگر اس میں سے کچھ کم ہو تو آپ مجھے کو میں ورنہ آپ جتنے کپڑے میں مجھے آٹھ ٹو پیاں بنانے کے لئے کہہ گئے تھے اتنے کپڑے کی آٹھ ٹوپیاں تیار کر دی گئی ہیں۔اگر آپ کو اب تکلیف ہوئی ہے تو اس کے ذمہ دار آپ ہیں میں نہیں۔واقعہ یہ ہے کہ ایڈیٹر صاحب ریویو اُردو، میں نہیں جانتا کہ کسی رسوخ اور تعلق کی بناء پر یا کسی اور وجہ سے اُن مبلغین میں سے تھے جنہیں قادیان میں ہی رکھا جاتا تھا اور مبلغ بھی تھے مگر ان میں سے ایک وہ بھی تھے۔میں جب اعتراض کرتا تو میرے سامنے کوئی نہ کوئی عذر پیش کر دیا جاتا۔آخر جب میں نے سختی سے اعتراض کیا تو میرے سامنے یہ تجویز پیش کی گئی کہ انہیں ریویو آف ریلیجنز اُردو کا ایڈیٹر بنا دیا جائے وہ وعدہ کرتے ہیں کہ ایک (یا دو) سال کے اندر اندر رسالہ اپنا خرچ آمد سے نکال لے گا اور تنخواہ بھی آمد میں سے ہی پیدا کریں گے۔چنانچہ نظارت نے یہ تجویز پیش کی اور ایڈیٹر صاحب