خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 622
خطابات شوریٰ جلد دوم ۶۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دو ہی صورتیں ”الوصیت“ میں بیان فرمائی ہیں کہ یا تو وہ ضعف ایمان کی وجہ سے وصیت کا انکار کر دے یعنی کہے کہ وصیت کے میں وہ فوائد درست تسلیم نہیں کرتا جو بیان کئے جاتے ہیں اور نہ میرا یہ اعتقاد رہا ہے کہ اس کے نتیجہ میں جنت مل سکتی ہے۔ایسے شخص کو اُس کا مال واپس کر دینا چاہئے کیونکہ ایسے شخص کو اگر روپیہ واپس نہ کیا جائے گا تو یہ سمجھ لیا جائے گا کہ ہم نے لالچ کے ماتحت اُس سے روپیہ لے لیا ہے ورنہ جب وہ یہ عقیدہ ہی نہیں رکھتا کہ اس کے نتیجہ میں جنت مل سکتی ہے تو اُس کا روپیہ رکھنے کے معنے ہی کیا ہیں۔دوسری صورت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ سلسلہ سے روگردان ہو جائے ایسی حالت میں بھی جبکہ اُس کے عقائد احمدیت کے عقائد کے خلاف ہو جائیں اُس کا مال اُسے واپس کر دیا جائے گا اور اس بات کو نہیں دیکھا جائے گا کہ اُس نے مال کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے یا نہیں کیا۔کیونکہ جیسا کہ میر محمد اسحق صاحب نے اپنی تقریر میں بیان کیا ہے بعض بڑے آدمی ہوتے ہیں اُن کے متعلق اس بات کا امکان ہے کہ وہ عقائد کی درستی کی حالت میں دو چار سو روپیہ وصیت کے حساب میں دے دیں مگر جب مرتد ہو جائیں تو اُس روپیہ کی واپسی کا مطالبہ نہ کریں بلکہ روپیہ مانگنا اپنی کسر شان خیال کریں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کو اُن کا مال رڈ کر دینا چاہئے کیونکہ ایسا مال خدا تعالیٰ کے نزدیک مکروہ ہے اور خدا کسی کے مال کا محتاج نہیں۔اگر ہم ایسے لوگوں کا بھی مال رڈ نہ کریں یا اُن کے مطالبہ کا انتظار کرتے رہیں تو اس صورت میں لوگوں کے دلوں میں شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ ہم روپیہ لے کر جنت کا سودا کرتے ہیں حالانکہ یہاں روپیہ کا سوال نہیں بلکہ ایمان کا سوال ہے۔پس ان ہر دو قسم کے لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے ماتحت ان کا مال رڈ کیا جائے گا کیونکہ ایسا مال خدا کے نزیک مکروہ ہے۔لیکن ان دو قسم کے علاوہ ایک قسم ایسے لوگوں کی بھی ہے جو دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ ہم احمدی ہیں مگر نظام سلسلہ نے اُن کو جماعت سے الگ کیا ہوا ہوتا ہے۔اس تشریح کے بعد ان کا کوئی حق نہیں ہوگا کہ وہ ہم سے وصیتی مال کی واپسی کا مطالبہ کریں۔پھر اس تشریح کا ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ ممکن ہے بعض ایسے لوگ جو دل میں تو احمدیت سے روگردان ہوں مگر دعوی یہ کرتے ہوں کہ ہم احمدی ہیں وہ اپنے روپیہ کے لالچ