خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 621
خطابات شوری جلد دوم ۶۲۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء میری ذاتی رائے ایک وقت بالکل وہی تھی جو شیخ بشیر احمد صاحب کی ہے لیکن بعد میں میری رائے چوہدری اعظم علی صاحب کی اس تشریح کو سن کر بدل گئی کہ اس وقت اس شرط کی اس لئے ضرورت پیش آئی تھی کہ لوگوں نے اس سے پہلے کئی قسم کے چندوں کے لئے وعدے کئے ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی سہولت کے لئے اعلان فرما دیا کہ اگر وہ وصیت کر دیں تو اُن کے پہلے چندے ۱۰ را میں ہی شامل سمجھ لئے جائیں گے مگر اب یہ صورت نہیں ہے۔اس تشریح کو سن کر میری رائے بدل گئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا منشاء پورے طور پر واضح نہیں ہے۔میرا ذاتی خیال تو یہ ہے کہ اگر ہمیں اس بارہ میں شبہ بھی ہو جائے کہ آیا صرف وہی جائیداد واپس کرنی چاہئے جو بجنسم موجود ہو یا اُس جائیداد کو بھی واپس کر دینا چاہئے جو فروخت ہو چکی ہو تو ہمیں فروخت شدہ جائیداد کو بھی رڈ کر دینا چاہئے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ابھی مجھے ایسے دلائل نہیں ملے جن سے اس بارہ میں کوئی قطعی طور پر کوئی آخری فیصلہ کیا جا سکے اس لئے في انحال میں اِس قاعدہ کو جاری کرتا ہوں۔دوست اس مسئلہ پر غور کرتے رہیں میں بھی انشاء اللہ مزید غور کروں گا۔اس وقت میرا طبعی میلان اس طرف ہے کہ تقویٰ کا طریق یہی ہے کہ خواہ ایسے شخص سے مال لیا گیا ہو اور خواہ جائیداد، دونوں چیز میں اُسے واپس کر دینی چاہئیں۔مگر غلطی سے بعض دوستوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ جسے تعزیر کے طور پر ہم اپنی جماعت سے خارج کرتے ہیں وہ بھی اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اُسے اُس کی وصیت کا مال واپس کر دیا جائے۔حالانکہ میں نے بارہا بتایا ہے کہ میں کسی کو احمدیت سے نہیں نکالتا بلکہ جماعت سے نکالتا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ فرماتے ہیں کہ جو شخص سلسلہ سے روگردان ہو جائے اُسے اُس کا وصیتی مال واپس کیا جائے مگر بالعموم اس فرق کو نہیں سمجھا جاتا۔چنانچہ بعض دفعہ جب ہم کسی شخص کو اپنی جماعت سے خارج کر دیتے ہیں تو وہ بھی اپنی وصیت کا روپیہ واپس مانگنے لگ جاتا ہے حالانکہ اُسے بطور سزا جماعت سے خارج کیا گیا ہوتا ہے اس لئے تو خارج نہیں کیا جاتا کہ ہم اسے بعد میں کہہ دیں کہ لو تمہارا اتنا روپیہ ہمارے پاس جمع ہے یہ ہم سے انعام لے لو۔