خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 618
خطابات شوری جلد دوم ۶۱۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء روپیہ مطالبہ پر واپس ہونا چاہئے مطالبہ کے بغیر واپس نہیں کرنا چاہئے اور نقد بھی اُسی صورت میں واپس کرنا چاہئے جب وہ اُس سال کے بجٹ کے اندر ہو۔اسی طرح جائیداد بھی اُسی صورت میں واپس کرنی چاہئے جب وہ موجود ہو۔جو دوست اس خیال کی تائید میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ صرف ۶۷ دوست کھڑے ہوئے۔اب جو دوست شیخ بشیر احمد صاحب کی تائید میں ہوں میں ان سے ان کی رائے دریافت کروں گا۔اُن کی تجویز یہ ہے کہ یہ قانون صرف جائیداد کے متعلق ہے کیونکہ آمد کی وصیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس قاعدہ کے وقت موجود نہ تھی اور جائیداد پر بھی صرف اس صورت میں یہ قانون عائد ہوتا ہے جب وہ بجنسہ انجمن کے قبضہ میں ہو، روپیہ کا یہاں کوئی ذکر نہیں، اسی طرح وہ کہتے ہیں مطالبہ کا بھی کوئی سوال نہیں جب کوئی شخص سلسلہ سے روگردان ہو جائے یا ضعف ایمان کی وجہ سے وصیت کا انکار کر دے تو اُسے اُس کا مال فوراً رڈ کر دینا چاہئے اور اپنے پاس کسی صورت میں بھی نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ وہ مال خدا کے حضور مردود ہے۔“ جو دوست شیخ بشیر احمد صاحب کی ترمیم کے حق میں ہوں اور ان کا خیال ہو کہ یہ قاعدہ صرف جائیداد موجودہ پر عائد ہوتا ہے اُس شرط کے ماتحت جس کا خلیل احمد صاحب ناصر کی ترمیم کے نتیجہ میں جماعت کی اکثریت فیصلہ کر چکی ہے اور ان کا یہ خیال ہو کہ یہ قاعدہ آمد کے مالوں پر چسپاں نہیں ہوتا وہ کھڑے ہو جائیں۔“ کچھ دوست کھڑے ہوئے مگر کچھ دوستوں نے عرض کیا کہ ہم بات کو صحیح طور پر نہیں سمجھے۔اس لئے حضور نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : - اس وقت شیخ بشیر احمد صاحب کی ترمیم پیش کی ہے جس کی تائید میں ابھی میر محمد اسحق صاحب بولے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مرتد اور منکر از وصیت کو روپے کے واپس کرنے کا کوئی حکم نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر سے یہ امر ثابت ہے کہ اِس قاعدہ کا اطلاق صرف جائیداد پر ہوتا ہے جو اُس نے دی ہوئی ہو۔اگر اس کے بعد وہ ضعف ایمان کی وجہ سے اپنی وصیت کا انکار کر دیتا ہے یا ارتداد اختیار کر لیتا ہے تو اگر اُس کی جائیداد بجنسہ