خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 617
خطابات شوری جلد دوم ۶۱۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء صرف ۳۵ دوست اس کی تائید اور پہلی ترمیم کے مخالفت میں کھڑے ہوئے۔اب مولوی ابوالعطاء صاحب کی ترمیم پیش ہوگی۔“ مولوی ابوالعطاء صاحب کی طرف سے ترمیم پیش ہونے پر فرمایا: - مولوی صاحب کہتے ہیں کہ جو شخص احمدیت سے الگ ہو جائے اور الگ ہونے کی وہ تشریح سمجھی جائے گی جس کا اکثریت فیصلہ کر چکی ہے کہ یا تو وہ خود سلسلہ سے روگردان ہونے کا دعویٰ کرے یا ضعف ایمان کی وجہ سے اپنی وصیت سے منکر ہو جائے اسے اس کا ادا کردہ اصل وصیت کا مال اگر جماعت احمدیہ کے قبضہ میں موجود ہو مطالبہ پر واپس کیا جائے گا اور اگر اصل چندہ موجود نہ ہو تو واپس نہیں کیا جائے گا اور حصہ آمد کی موجودگی کا معیار اس سال کا بجٹ ہوگا۔اس کے مقابلہ میں شیخ بشیر احمد صاحب کی ترمیم بھی دوست مدنظر رکھیں کہ چونکہ آمد کی وصیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس قاعدہ کے وقت کہ مرتد اور منکر از وصیت کا مال رڈ کر دیا جائے موجود نہ تھی اس لئے رڈ کرنے کا قاعدہ آمد کے مالوں پر چسپاں ہی نہیں ہوتا۔گویا شیخ بشیر احمد صاحب کی ترمیم اور اس ترمیم میں فرق یہ ہے کہ شیخ بشیر احمد صاحب کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیان فرمودہ تشریح سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ قاعدہ حصہ آمد پر بھی حاوی ہے بلکہ یہ قاعدہ صرف جائیداد پر چسپاں ہوتا ہے اور جائیداد بھی وہ جو بجنسہ انجمن کے قبضہ میں ہو۔مگر مولوی ابوالعطاء صاحب کہتے ہیں کہ جائیداد تو بیشک اگر موجود ہو تو واپس کی جائے ورنہ نہیں لیکن چندہ ضرور دیا جانا چاہئے لیکن صرف اُس سال کا چندہ جس میں وہ سلسلہ سے روگردان ہونے یا ضعف ایمان کی وجہ سے وصیت کا انکار کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔دوسرا فرق یہ ہے کہ مولوی صاحب کہتے ہیں اگر وہ مطالبہ کرے تب مال واپس کیا جائے مطالبہ نہ کرے تو واپس نہ کیا جائے مگر شیخ بشیر احمد صاحب کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مطالبہ کی شرط نہیں رکھی بلکہ ہر حالت میں خواہ وہ مطالبہ کرے یا نہ کرے ایسے مال کو رڈ کرنے کے قابل قرار دیا ہے چونکہ یہ دونوں ترمیمیں ایک دوسرے کو رد کرتی ہیں اس لئے میں مخالف رائے نہیں لونگا۔جو دوست مولوی ابوالعطاء صاحب کی تائید میں ہوں یعنی اس خیال کے ہوں کہ