خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 619 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 619

خطابات شوری جلد دوم ۶۱۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء انجمن کے قبضہ میں ہو تو وہ بیشک واپس کر دینی چاہئے لیکن حصہ آمد کا مال کسی صورت میں بھی واپس نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اول تو جب یہ قاعدہ بنایا گیا اُس وقت آمد کی وصیت نہیں ہوا کرتی تھی دوسرے آمد کا مال خرچ ہوتا جاتا ہے اور وہ نہ قبضہ میں ہوتا ہے نہ قائم رہتا ہے اس لئے حصہ آمد کا مال واپس نہیں کیا جاسکتا۔اس صورت میں اس سوال کی بھی ضرورت نہیں رہتی کہ چندہ عام وضع کیا جائے یا نہ کیا جائے۔دوسری بات وہ یہ کہتے ہیں کہ مطالبہ کی کوئی شرط نہیں ایسا مال بہر حال گندہ اور رڈ کرنے کے قابل ہے۔جو دوست اس بات کے حق میں ہوں کہ مطالبہ کی کوئی شرط نہیں ہر حالت میں مال رڈ کر دینا چاہئے اور ساتھ ہی اس بات کے حق میں ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قاعدہ کا اطلاق صرف جائیداد پر ہوتا ہے اور وہ بھی ایسی جائیداد پر جو انجمن کے قبضہ میں بجنسہ ہو چندہ جو خرچ ہو جاتا ہے اُس پر یہ قاعدہ اطلاق نہیں پاتا وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۱۴۴ دوست کھڑے ہوئے۔فرمایا :- ’ اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ۶۷ دوست مولوی ابوالعطاء صاحب کی ترمیم کی تائید میں تھے اور ۱۴۴ اس ترمیم کی تائید میں مگر مجلس مشاورت میں شامل ہونے والے نمائندگان اس سے زیادہ ہیں اس سے خیال کیا جاسکتا ہے کہ نمائندگان کا کچھ حصہ نیوٹرل رہا ہو اور وہ سب کمیٹی کی تجویز کی تائید میں ہو اس لئے اب اسے پیش کیا جاتا ہے۔سب کمیٹی کی تجویز یہ ہے کہ : - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منظور فرمودہ قاعدہ نمبر ۱۲ مندرجہ مندرجہ ضمیمہ متعلقہ رساله الوصیت و قاعدہ نمبر ۶ مندرجہ روئداد اجلاس ۲۹ جنوری ۱۹۰۶ء کی روشنی میں یہ ظاہر ہے کہ ایسے موصی کو جس کی وصیت ان قواعد کی رو سے منسوخ کی جائے چندہ عام مشمولہ حصہ آمد لینے کا حق نہ ہوگا اس کے مطابق وصیت کے طبع شدہ فارم میں تبدیلی کر دی جائے۔“ مرتد اور منکر از وصیت کی تعریف پہلے ہو چکی ہے پس سب کمیٹی کی تجویز یہ ہے کہ جس کو وصیتی مال واپس کرنا ہو اُس کو روپیہ واپس کیا جائے اور جائیداد بھی۔گویا اگر چندے والی