خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 593
خطابات شوری جلد دوم ۵۹۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء استاد اور دوست اثر ڈالتے ہیں۔آپ کا یہ خیال ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اس کے مذہبی خیالات پر گمراہ کن اثر نہیں ڈالتا؟ آپ نے اس کے لئے زہر کا انتظام تو کر رکھا ہے مگر تریاق آپ کو پسند نہیں۔وہ جن کا کوئی حق نہ تھا کہ اسے مذہب کے بارہ میں کچھ سکھاتے وہ تو سکھا رہے ہیں مگر آپ جن کا فرض تھا اس سے غافل ہیں۔نظارتوں کے فرائض بہر حال دوستوں کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ہر ایک پر ہے چند ایک سکول جاری کر دینے سے یہ کام نہیں چل سکتا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سال نظارت کو اس کا خیال آنا مفت کرم داشتن والی بات ہے۔میں سال پہلے اسے یہ خیال نہیں آیا مگر اب جبکہ اس کا موقع نہ تھا اس کی طرف سے یہ تجویز پیش کر دی گئی ہے۔یہ امر بھی قابل افسوس ہے کہ اِس محکمہ نے اُن سکولوں کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جو پہلے سے جاری ہیں بھلا ان کی نگرانی میں نظارت کا کیا حرج تھا۔اور ہمیں ممنون ہونا چاہئے اُن نوجوانوں کا جنہوں نے تعلیم کے لئے اپنی زندگیاں وقف کیں اور سکولوں کو چلاتے رہے۔میں نے پہلے بھی کئی بار کہا ہے کہ جب تک جماعتوں سے نظارتیں میل ملاپ نہیں بڑھاتیں وہ اپنے فرائض کو اچھی طرح ادا نہیں کرسکتیں۔بار بار ملنا، جماعتوں کی مشکلات معلوم کرنا، سادگی سے ان کی تقاریب میں شرکت کرنا ان کے لئے بہت ضروری ہے۔مبلغین کے فرائض میں نے پہلے بھی کئی بار کہا ہے کہ ہمارے سلسلہ کے مبلغین کو جماعت کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھنا چاہئے اور مجھے افسوس ہے کہ اب تک وہ ایسا نہیں سمجھتے وہ جہاں جاتے ہیں وفات مسیح ، صداقت مسیح موعود یا کسی اور مسئلہ پر تقریر کرتے ہیں اور واپس آ جاتے ہیں اور وہ اپنی کوئی ذمہ داری نہیں سمجھتے بلکہ میں تو بعض مبلغین کو بھی اچھا احمدی نہیں سمجھتا ، وہ بالکل ملنٹے ہیں اور ان میں اور دیو بندی ملانوں میں کوئی خاص فرق نہیں۔چند ایک آیات یاد کر رکھی ہیں یا چند ایک دلائل رٹے ہوئے ہیں اور جہاں جاتے ہیں وہ سنا کر آجاتے ہیں۔میں سب کے متعلق ایسا نہیں کہتا لیکن کسی کا نام بھی نہیں لیتا مگر یہ ضرور کہوں گا کہ ہمارے مبلغین میں سے بعض ایسے ہیں کہ جب میں اُن کی شکلیں دیکھتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دماغ تکبر اور غرور