خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 592
۵۹۲ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء رکھتے ہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ان سے زیادہ بہتر تعلیم نہیں ہوسکتی لیکن بہر حال وہ ایک نمونہ ہیں اگر چہ اور بھی کئی ایسی مثالیں ہیں مگر پیر صاحب کا ماحول ایسا ہے کہ مجھے ان سے امید نہ ہو سکتی تھی اور ان کے لڑکے عزیزم پیر صلاح الدین صاحب کے متعلق میرا خیال تھا کہ انہوں نے خود کوشش کر کے دینی تعلیم حاصل کی ہے مگر جب میں فیروز پور گیا اور ان کے دوسرے بچوں کو دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس میں پیر صاحب کی کوشش کا دخل ہے۔اور بھی ایسے دوست جماعت میں ہیں مگر جو یہ امید رکھتے ہیں کہ انجمن اُن کے لئے سکول کھولے اور مدرس اور مبلغ مقرر کرے وہ غلطی کرتے ہیں۔بیشک اگر طاقت ہو تو ضرور سکول بھی کھولے جائیں مگر حقیقت یہی ہے کہ تعلیم و تربیت کا کام سکولوں اور مبلغوں سے نہیں ہوسکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک بھی سکول نہ تھا مگر پھر بھی یہ کام نہایت اعلیٰ پیمانہ پر ہوتا تھا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ صحابہ میں سے ہر ایک نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ یہ میرا کام ہے کہ خود دین سیکھوں اور دوسروں کو سکھاؤں۔تو اصل تربیت خود ماں باپ ہی کر سکتے ہیں اس لئے میں احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب خود پڑھیں اور بچوں کو پڑھائیں آپ لوگوں میں سے اکثر ہیں جو کسی احمدی سکول میں نہیں پڑھے مگر دوسرے سکولوں میں پڑھنے کے باوجود احمدی ہوئے۔اسی طرح اگر آپ لوگ اپنے بچوں کو دینی تعلیم دیں تو وہ دوسرے سکولوں میں پڑھنے کے باوجود دینی تعلیم و تربیت اچھی حاصل کر سکتے ہیں مگر میں نے دیکھا ہے دوست اس بات کی طرف خاص توجہ نہیں کرتے۔ایک احمدی طالب علم نے مجھے ایک دفعہ لکھا کہ میرے والد صاحب میرے نام اخبار الفضل جاری نہیں کراتے۔ان کی دو بیویاں تھیں اور پہلی کے ساتھ اُن کے تعلقات کشیدہ تھے میں نے خیال کیا کہ یہ بیٹا اُس بیوی سے ہوگا مگر جب میں نے ان سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ ان کی دوسری بیوی سے ہے۔جب میں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ اس کے نام الفضل کیوں جاری نہیں کراتے۔تو انہوں نے جواب دیا کہ میں چاہتا ہوں کہ مذہب کے بارہ میں اس کی رائے آزا در ہے۔میں نے اُن سے کہا کہ آپ نے اسے دنیوی تعلیم کے لئے کالج میں بھیجا ہوا ہے جہاں وہ فلسفہ کی کتابیں اس پر اثر ڈالتی ہیں جو وہ پڑھتا ہے، جہاں اُس کے