خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 594 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 594

خطابات شوری جلد دوم ۵۹۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء سے بھرے ہوئے ہیں اور وہ یوں ہاتھ مار مار کر اور اکڑ اکڑ کر چلتے ہیں کہ گویا وہ عام لوگوں سے بالا ہستی رکھتے ہیں اور دنیا کا فرض سمجھتے ہیں کہ اُن کی قدر کرے۔جب تک مبلغ اپنی حالت کو نہ بدلیں اور جب تک نظارت تبلیغ اپنے آپ کو تعلیم و تربیت کا بھی ذمہ دار نہ سمجھے یہ کام نہیں ہو سکتا بلکہ تبلیغ کا کام بھی تسلی بخش طور پر نہیں ہو سکتا۔میری سمجھ میں تو یہ کبھی نہیں آیا کہ کیوں یہ سمجھا جائے کہ مبلغ معلم نہیں ہیں اور وہ کیوں یہ خیال کریں کہ اُن کا کام صرف تبلیغ ہے تعلیم و تربیت سے اُن کا کوئی تعلق نہیں۔کیا خدا تعالیٰ کا نوکر بھی کبھی یہ خیال کر سکتا ہے کہ فلاں نیک کام میرے فرائض میں داخل نہیں ؟ اگر تو وہ مومن ہیں تو خواہ انہیں ڈنڈے پڑیں انہیں جماعت کی تعلیم و تربیت کے کام کو کبھی فراموش نہ کرنا چاہئے۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان کو با قاعدہ تنخواہ ملتی ہے لیکن پھر بھی ان میں سے بعض تبلیغ تو کرتے ہیں، دن میں صرف آدھ گھنٹہ اور باقی وقت لمبی تان کر سوتے ہیں یا سیر کرتے رہتے ہیں اور پھر سمجھتے یہ ہیں کہ وہ مبلغ ہیں اور اس لئے لوگوں کو ان کی بڑی قدر کرنی چاہئے۔حالانکہ چاہئے یہ کہ جب کوئی مبلغ باہر جائے تو جماعت کے دوستوں کی تربیت اور تعلیم کا بھی کام کرے، دعاؤں پر زور اور نمازوں کی پابندی اپنے عمل سے دکھائے۔مگر یہ بات نہیں۔جو مبلغ اس وقت پیدا ہو رہے ہیں اُن کی اِن باتوں کی طرف توجہ نہیں۔نظارت تعلیم و تربیت کو شکوہ ہے کہ تربیت کے لئے انسپکٹر نہیں ملتے حالانکہ اگر مبلغین میں ایسی روح ہوتی کہ وہ اپنے آپ کو مبلغ سمجھنے کی بجائے مومن ہی سمجھتے تو انسپکٹروں کی کوئی ضرورت ہی باقی نہ رہتی۔اس وقت ۴۰۔۵۰ مبلغ ہیں جو کام یہ سب نہیں کر سکتے وہ دو چار انسپکٹر کیسے کر سکتے ہیں۔مبلغ کے معنے تو یہ ہیں کہ جو دین کی تبلیغ واشاعت کو اپنی زندگی کا مقصد قرار دے لے۔ایسے شخص کو اگر ملا زمت سے نکال بھی دیا جائے تو بھی وہ تبلیغ ہی کرے گا لیکن ہمارے مبلغین میں کتنے ایسے ہیں جن کو اگر نکال دیا جائے تو بھی وہ تبلیغ ہی کریں گے۔اس وقت تک جتنے بھی نکالے گئے ہیں ان میں سے کسی نے مدرسی کر لی ، کسی نے کوئی اور کام کسی نے کوئی سرکاری نوکری کر لی۔اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ لوگ در حقیقت مبلّغ نہ تھے صرف تنخواہ دار تھے اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے انگریزوں کے ملازم ہوتے ہیں۔انگریزوں نے تنخواہ دی تو اُن کی ملازمت کر لی اور جاپانیوں نے دی تو اُن کے نوکر ہو گئے۔ایسی مثالیں بھی ہیں کہ ہم نے ایک مبلغ کو