خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 589

خطابات شوری جلد دوم ۵۸۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء مسلمانوں کے کچھ حقوق محفوظ ہیں مگر یہ سکیم نافذ ہونے کے بعد یہ تحفظ بھی قائم نہ رہ سکے گا کیونکہ اس کے بعد جو فیصلہ اسمبلی کرے گی وہ بہر حال ماننا ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ اگر مدراس کا صوبہ چاہے تو مرکز سے علیحدہ ہوسکتا ہے، بمبئی کا صوبہ چاہے تو ہو سکتا ہے، یو۔پی کا صوبہ چاہے تو ہو سکتا ہے، بہار اور اُڑیسہ ہو سکتے ہیں مگر کوئی ایسا صوبہ جس میں مسلمانوں کی اکثریت کہی جاتی ہے وہ نہیں ہوسکتا۔مثلاً مدراس میں چھ فیصدی مسلمان اور ۹۴ فیصدی ہندو ہیں اُن کو تو فائدہ پہنچ سکتا ہے مگر مسلمانوں کو کہیں بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔پنجاب میں اس وقت جو یونینسٹ حکومت قائم ہے اس میں دوسری قوموں کے ممبر بھی شامل ہیں اور ان کی امداد سے یہ حکومت قائم ہے۔وہ زمیندار اور غیر زمیندار کے سوال پر تو اکٹھے ہو سکتے ہیں مگر اور کسی معاملہ میں مسلمانوں کے ساتھ نہیں مل سکتے۔چنانچہ سر چھوٹو رام علی الاعلان کہہ چکے ہیں کہ وہ پنجاب کی مرکز سے علیحدگی کے حق میں ہرگز ووٹ نہ دیں گے۔مسلمانوں کے فائدہ کی صرف ایک ہی صورت ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ بعض ہندو اور سکھ ممبروں کو وہ ساتھ ملا سکیں لیکن اگر کوئی غیر مسلم ان کے ساتھ ملے تو وہ وہی لے کر راضی ہوں گے کہ جس کے دینے سے مسلمانوں کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہے گا اس لئے میرے نزدیک موجودہ سکیم کا جو ڈھانچہ شائع ہوا ہے وہ مسلمانوں کے لئے سخت ممنر ہے۔میں نہیں جانتا کہ مسلم لیگ اس بارہ میں کیا فیصلہ کرے گی لیکن لیڈروں کے جو بیانات میں نے پڑھے ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خوش ہیں۔ابھی رستہ میں ایک دوست نے ذکر کیا کہ ایک مسلمان اخبار نے لکھا ہے کہ پاکستان قائم ہو گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو جو کچھ تحفظات حاصل ہیں وہ بھی باقی نہ رہیں گے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ شور مچا دو کہ مسلمانوں کو پاکستان مل گیا تا مسلمان جو نسبتا کم تعلیم یافتہ ہیں خوش ہو جائیں۔یہ حالات بھی ہمارے لئے خطر ناک ہیں گاندھی جی اور ان کے ساتھیوں کا یہ فیصلہ ہے کہ ان کے سوا راجیہ میں عام تبلیغ اور تبدیلی مذہب کی اجازت کسی کو نہ ہوگی۔پس اگر یہ سکیم موجودہ صورت میں منظور ہو گئی تو یہ سخت خطرناک بات ہوگی۔مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سمجھ دے اور وہ صاف طور پر حکومت کو بتا دیں کہ وہ اس سکیم کو موجودہ صورت میں ہرگز قبول نہ کریں گے۔ان کو دلوں