خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 588
۵۸۸ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء اسی فیصدی ووٹوں سے مرکز سے علیحدگی کا فیصلہ کرے گا وہ علیحدہ ہو سکے گا۔اسی فیصدی ووٹ مسلمانوں کو کسی صوبہ میں حاصل نہیں ہو سکتے۔صوبہ سرحد میں ۷۵ فیصدی مسلمان ہیں۔سندھ میں ۷۵ فیصدی اور پھر اِن دونوں صوبوں میں ایک حصہ کانگرسی ہے جو کبھی علیحدگی کے حق میں ووٹ نہ دے گا۔یہ سکیم پیش کر کے گورنمنٹ نے میرے نزدیک صرف اپنا پہلو بچالیا ہے تا نہ کانگرس اعتراض کرے اور نہ مسلم لیگ۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے اکثریت کی یہ رائے ہر گز نہیں کہ وہ ہندوستان سے علیحدہ ہو جائیں۔وہ جو علیحدگی کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس سے اُن کا مقصد صرف یہ ہے کہ کانگرس پر ایسا سیاسی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اُن کے حقوق مان لے اور موجودہ سکیم اس مقصد کو پورا نہیں کرتی۔صوبہ سرحد میں بھی اسی فیصدی ووٹ مسلمانوں کو علیحدگی کی تائید میں نہیں مل سکتے اور صوبہ سندھ میں بھی نہیں۔پھر ان دونوں صوبوں میں ایک معتد بہ حصہ کانگرسی خیالات کا ہے۔پنجاب میں مسلمان ہے صرف ۵۶ فیصدی ہیں اور بنگال میں ۵۴ فیصدی۔تو جہاں تک سکیم کے اس حصہ کا تعلق۔وہ بالکل ناقص ہے۔دوسرا حصہ اس سکیم کا یہ ہے کہ اگر ایسے ووٹ ۶۰ فیصدی ہوں تو وہ قوم دعویٰ کر سکتی ہے کہ ریفرینڈم کیا جائے اِس سے اُسے علیحدگی کا حق حاصل نہیں ہو جائے گا بلکہ صرف اسے اس مطالبہ کا حق حاصل ہوگا کہ ساری پبلک سے رائے لی جائے۔پھر اگر اس خیال والوں کو اکثریت حاصل ہو تو خواہ وہ ۵۱ فیصدی ہوا سے یہ حق مل جائے گا۔اعداد کے لحاظ سے ہو سکتا ہے کہ صوبہ سرحد میں اس طرح مسلمانوں کو کامیابی ہو سکے لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہاں کے چونکہ کچھ مسلمان ممبر کانگرس کے ساتھ ہیں وہاں بھی اس مطالبہ کی تائید میں ساٹھ فیصدی ووٹ نہ مل سکیں گے۔وہاں کی حکومت کچھ عرصہ ہوا کانگرسیوں کے ہاتھ میں تھی جس کے معنے یہ ہیں کہ بہر حال پچاس فیصدی سے زیادہ ممبر کانگرسی تھے اور دوسرے لازماً ان سے کم ہونگے۔سندھ میں بھی یہی حالت ہے وہاں جو پارٹی بھی ہندوؤں سے سمجھوتہ کرے وہی حکومت قائم کر سکتی ہے۔پنجاب میں مسلمان ۵۶ فیصدی ہیں ان میں سے احراری کبھی ان کے ساتھ ووٹ نہ دیں گے۔پھر شہری آزاد طبقہ بھی ہے۔اسمبلی میں مسلمان ممبر ۵۱ فیصدی ہیں ان میں سے بھی چار فیصدی کم سے کم اور نکل جائیں گے باقی ۴۷ ۴۸ رہ جائیں گے اور ظاہر ہے کہ اتنی قلیل تعداد کچھ بھی نہیں کر سکتی۔اس وقت