خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 590
خطابات شوری جلد دوم ۵۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء سے یہ غلط خیال نکال دینا چاہئے کہ انہیں کچھ مل گیا ہے ملا ملایا کچھ نہیں بلکہ پہلے جو کچھ حاصل تھا اُس کے بھی ہاتھ سے جاتے رہنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔اس کے بعد میں اس امر پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں کہ سوائے چند ایک کے جماعتوں نے بجٹ کو بالعموم پورا کیا ہے بلکہ بعض کا چندہ تو بجٹ سے زیادہ ہو گیا ہے۔تحریک جدید میں بھی یہی نظارہ دکھائی دیتا ہے۔گزشتہ سال تحریک جدید کے وعدے ۱۳۰۰۰۰ کے تھے اور اُس وقت تک ۳۹ ہزار وصول ہوا تھا۔مگر اس سال اب تک ۵۶ ہزار وصول ہو چکا ہے۔صدر انجمن احمدیہ کے بجٹ میں سے بھی گزشتہ سال اب تک کم وصولی ہوئی تھی مگر اس سال اندازہ سے زیادہ وصول ہو چکا ہے اور مجموعی چندہ مقررہ بجٹ سے زیادہ ہے۔اس میں شک نہیں کہ اس میں ایک حصہ اُن ملازمین کے چندوں کا ہے جو پہلے بریکار تھے مگر اب جنگ کی وجہ سے ملا زم ہو گئے ہیں مگر یہ سارا حصہ اُن کا ہی نہیں بلکہ اس میں کچھ حصہ جماعت کی بیداری کا بھی ہے اور جماعت میں اِس بیداری پر میں خوشی کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہ نہیں کہ یہ بیداری تبلیغ اور سلسلہ کے دوسرے کاموں میں بھی ہے مگر جتنا بھی اچھا کام جماعت نے کیا ہے میں اُس پر اظہارِ خوشنودی کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ جماعت کے اس اخلاص کی قدر فرمائے اور آئندہ ان کے اخلاص میں ترقی دے اور مزید نیک کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔“ اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت کا خود فکر کرو مجلس مشاورت میں سب کمیٹی نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے یہ تجویز پیش ہوئی کہ :- اگر کسی احمد یہ جماعت کے پانچ میل کے دائرہ کے اندر اندر احمدی بچوں کی تعداد پچاس سے زیادہ ہو تو وہاں کم از کم احمد یہ پرائمری سکول جاری کرنے کی کوشش کی جائے۔فی الحال تجربہ تین سکول کھولنے 66 منظور کئے جائیں۔“ ممبران کی بحث کے بعد جب ووٹ لئے گئے تو یہ تجویز رڈ ہوگئی۔اس موقع پر