خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 587
خطابات شوری جلد دوم ۵۸۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء دنیاوی کاموں کو مٹانے سے دریغ کرتا ہے جو دینی کاموں کی تائید میں ہوں۔یا کسی دینی کام کے مخالف نہ ہوں اور کسی دینی کام کے مقابل پر نہ آئیں۔ذیل کی روایت روایتاً خواہ کیسی ہی کمزور ہو لیکن اللہ تعالیٰ کی بے نیازی کی اچھی مثال ہے۔کہتے ہیں کہ جب طوفانِ نوح آیا اور پانی بہت اونچا ہونے لگا تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ پانی کافی اونچا ہو گیا ہے، کافی تباہی آچکی ہے اب اسے بند کر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابھی اور اونچا ہونے دو۔پھر اور اونچا ہو ا۔تو فرشتوں نے عرض کیا کہ اب بند کر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہیں ابھی اور اونچا ہونے دو فلاں پہاڑ کی چوٹی پر ایک درخت کی اوپر کی شاخ پر ایک چڑیا کا بچہ ہے وہ پیاسا ہے جب تک وہ اپنی چونچ سے نہ پی لے طوفان بند نہ کرو تو دنیا اپنی ظاہری شان و شوکت کے باوجود کوئی حقیقت نہیں رکھتی بالخصوص جب وہ دین کے مقابل پر آئے تو اللہ تعالیٰ اسے تباہ کرنے کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔پس اس وقت دنیا میں جو عظیم الشان تغیرات ہو رہے ہیں یا ہونے والے ہیں بے شک یہ بہت اہمیت رکھتے ہیں لیکن اُسی وقت جب تک کہ وہ دین کے مقابل پر نہ آئیں اور اگر احباب جماعت پالا التزام دعاؤں میں لگ جائیں حتی کہ اللہ تعالیٰ انہیں دین کے مقابل پر لے آئے تو پھر اس کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہ رہے گی اور ان پر خط نسخ کھینچ دے گا۔دنیا کے عظیم الشان واقعات کے علاوہ اس وقت ہندوستان کے مستقبل کا بھی فیصلہ ہو رہا ہے۔انگریز فیصلہ کر رہے ہیں کہ اس ملک کی حکومت کس طرح ہندوستانیوں کے سپرد کریں اور ہندوستانی زیادہ سے زیادہ جو مطالبہ کر سکتے ہیں وہ دینے کا اعلان برطانوی حکومت کر چکی ہے۔اگر کانگرس اس کی مخالفت کر رہی ہے تو صرف اس لئے کہ انگریز ڈرکر مسلمانوں کو کچھ نہ دیں یہ نہیں کہ کوئی ایسی بات رہ گئی ہے کہ جو ان کو حسب منشاء حاصل نہیں ہوسکی۔اس کی مخالفت صرف بہانہ ہے تا کہ اگر وہ مسلمانوں کو کچھ دینے کا ارادہ رکھتی ہو تو نہ دے۔جو سکیم برطانیہ کی طرف سے شائع کی گئی ہے جہاں تک اقلیتوں کے حقوق کا سوال ہے میرے نزدیک اس سے ناقص سکیم اور کوئی نہیں ہوسکتی۔بعض نادان مسلمان خوش ہیں کہ پاکستان مل گیا ہے لیکن حقیقتا یہ سکیم ایسی ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ مسلمان اس کے ماتحت خوش رہ سکیں بلکہ پہلے جو کچھ مسلمانوں کو حاصل تھا وہ بھی چھین لیا گیا ہے۔سکیم یہ ہے کہ جو صوبہ