خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 575
۵۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوری جلد دوم جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے۔یہ سنکر میاں بشیر احمد صاحب چلے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد پھر واپس آئے۔میں نے اُن سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ وہ کہنے لگے وہ تو کچھ اوباش لوگ تھے۔انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا وہ معافی مانگنے یا اظہار افسوس کرنے کے لئے تیار ہیں مگر جب میں نے آپ کا جواب انہیں سنایا تو وہ کہنے لگے اچھا اگر ان کی مرضی نہیں تو نہ سہی اور یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔میں نے یہ رویا چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے بیان کر دیا تھا اور اُن سے کہا تھا که شاید پیغامی پھر کوئی فتنہ کھڑا کرنے والے ہیں۔کل شیخ بشیر احمد صاحب نے سنایا کہ ان کو لائکپور کے ایک دوست کے ذریعہ یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ پیغامیوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مولوی صدر الدین صاحب کو قادیان بھیجا جائے۔میں نے کہا پھر تو یہ خواب اپنے ظاہری رنگ میں ہی پوری ہو جائے گی اور وہ اگر آئے تو یقیناً ہمارے مقابلہ میں گڑیا بن کر رہ جائیں گے اور ان کے ساتھی یہ کہہ کر چلے جائیں گے کہ جب یہ کوئی بات مانتے ہی نہیں تو نہ سہی ہم جاتے ہیں۔یہ رویا ۹ را پریل بدھ کے روز میں نے دیکھا تھا۔غرض اللہ تعالیٰ قبل از وقت کئی غیب کی خبریں ہمیں بتا دیتا اور پیش آمدہ حالات سے اطلاع دے دیتا ہے۔ابھی چند دن کی بات ہے یہاں ایک مقامی افسر نے ایسی کارروائی کرنی شروع کی جس سے مجھے یہ شبہ پیدا ہوا کہ ہماری تبلیغ کو روک دیا جائے گا۔میں نے اس کے متعلق دعا کرنی شروع کر دی اور میں نے کہا کہ یا اللہ ! تیرے دین کی تبلیغ کو تو کوئی روک نہیں سکتا مگر یہ افسر اس بے وقوفی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو ہلاک کر لے گا۔اس لئے تو اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا فرما کہ تبلیغ میں کوئی روک پیدا نہ ہو۔میں نے اس دعا کے بعد رویا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ بیٹھا ہوا ہوں اور وہی افسر میرے سامنے آیا ہے۔پہلے تو وہ اور افسروں سے کچھ مشورہ کرتا رہا پھر ایک خالی بینچ پر بیٹھ گیا۔میں نے دیکھا کہ اُس کے سر پر ایک لمبا سا کلاہ ہے اور چھوٹی سی پگڑی۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی مُلاً ہے۔اتنے میں پیچھے سے بعض اور دوست آئے اور وہ ان سے باتیں کرنے لگ گیا۔باتیں کرتے کرتے یکدم وہ اُٹھا اور میرے پہلو میں جھکا۔میں نے دیکھا کہ اس کا رنگ فق ہوتا چلا جا رہا ہے میں حیران ہوا کہ اسے کیا ہو گیا ہے۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ وہاں ایک