خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 576
خطابات شوری جلد دوم ۵۷۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء وہ سوراخ ہے جس میں سے ایک سانپ نے سر نکالا ہوا ہے اور غالبا اس سانپ نے ہی اُسے کاٹ لیا ہے میں نے کہا کہ جلدی سے اس سانپ کا زہر نکالومگر وہ بالکل ہمت ہار چکا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے مرنے لگا ہے مگر میں اُس کے لئے دوائی تلاش کرنے لگ گیا اور ابھی دوائی تلاش ہی کر رہا تھا کہ آنکھ کھل گئی۔ادھر یہ رویا میں نے دیکھا اور اُدھر چند دنوں کے بعد ہی مجھے معلوم ہوا کہ اس افسر کے رویہ میں فرق پیدا ہو گیا ہے اور یا تو و ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کے ماتحت کارروائی کرنے لگا تھا اور یا اس نے اس ارادہ کو بالکل ترک کر دیا۔اس رؤیا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ باز نہ آیا تو یا تو واقعہ میں کوئی سانپ اُسے کاٹ لے گا یا اپنی ہی قوم کے کسی مخفی شخص کے ذریعہ اسے شدید نقصان پہنچے گا۔غرض ہر اہم موقع پر اللہ تعالیٰ غیب کی خبریں مجھ پر ظاہر کر دیا کرتا ہے۔اس جنگ کے متعلق ہی کل میں نے ایک اور رویا دیکھا ہے۔میں نے دیکھا کہ میں انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعا میں مشغول ہوں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے نماز پڑھ کر میں فارغ ہو چکا ہوں اور مصلی پر بیٹھا ہوا ہوں۔شمال کی طرف میرا منہ ہے اور میرے سامنے میری بچی ناصرہ بیگم بیٹھی ہوئی ہے۔اس کے آگے میرا بھتیجا مظفر احمد بیٹھا ہوا ہے اور اس کے آگے منصور یا منور ہے۔خواب میں میں حیران ہوتا ہوں کہ ناصرہ نے مظفر سے پردہ کیوں نہیں کیا؟ اتنے میں مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ناصرہ میری طرز سے اس اعتراض کو بھانپ گئی ہے۔اُس وقت اس نے ایک دُھتہ لیا ہوا ہے اور وہ اپنے ہاتھ سے اس دُھتہ کے کونوں کو پکڑ کر ہلاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ میں نے پردہ کیا ہوتا ہے۔اس رؤیا کی تعبیر میں نے یہ مجھی کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت پس پردہ بیٹھی ہے۔یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ مظفر کون ہے مگر اس خواب سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ جو مظفر ہے اسے بھی یہ معلوم نہیں کہ نصرت اُس کے پس پردہ بیٹھی ہوئی ہے۔اس سے ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس جنگ میں خدا تعالیٰ کا ضرور دخل ہے۔بعض جنگیں ایسی ہوتی ہیں جن میں خدا تعالیٰ انجام لوگوں پر چھوڑ دیتا ہے مگر اس جنگ میں خدا تعالیٰ کا دخل معلوم ہوتا ہے اور پتہ لگتا ہے کہ نصرت پردہ کے پیچھے ہے۔حتی کہ جو مظفر ہے اُس کو بھی یہ معلوم نہیں کہ اُس کے پیچھے نصرت بیٹھی ہوئی ہے۔بہر حال اس رویا سے مجھے اتنی تسلی ضرور ہوئی کہ اس جنگ میں خدا تعالیٰ