خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 574

۵۷۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوری جلد دوم کو دیکھ کر بہت گھبرایا کہ یہ ہمارے گھر میں کس طرح آگئے ہیں۔مگر مرزا منصور احمد اور مرزا ناصر احمد نے بتایا کہ یہ اماں جان سے اجازت لے کر ان کا حال دریافت کرنے کے لئے آئے ہیں۔میاں منصور احمد میرے بھتیجے بھی ہیں اور داماد بھی۔میں نے رویا میں مذاق کے طور پر اُن سے کہا کہ میاں اماں جان کی شیشی میں سے کونین کی ایک گولی تو پچر ا دو۔پُرا دو کا لفظ اس لئے بولا کہ حضرت (اماں جان ) وہاں موجود نہ تھیں اور ان کی بلا اجازت کو نین لینے گئے تھے۔اس پر مولوی صدر الدین صاحب کہنے لگے یہ تو پہلے ہی چوری کے عادی ہیں۔مجھے اُن کا یہ فقرہ بہت بُرا لگا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں نے تو منصور احمد سے مذاق کیا تھا اور مخاطب بھی میں نے اُسے ہی کیا تھا ، مولوی صدر الدین صاحب درمیان میں کیوں بول پڑے۔پھر میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ یہ بہت بُری بات ہے۔آپ کو اس لئے اجازت نہیں دی گئی تھی کہ اندر آ کر آپ ایسی بے ہودہ باتیں کریں۔اس پر وہ کھڑے ہو گئے اور میری طرف اُنہوں نے بڑھنا شروع کر دیا گویا وہ میرا مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔جب وہ میرے قریب پہنچے تو میں نے اپنی کلائی اُن کی کلائی کے سامنے رکھ کر انہیں پیچھے ہٹایا اور کہا کہ آپ نے یہ بہت بُری حرکت کی ہے۔اتنے میں میں کیا دیکھتا ہوں کہ مولوی صدر الدین صاحب میرے اس معمولی سے جھٹکے سے چاروں شانے چت گر گئے ہیں اور اُن کا قد کوئی بالشت بھر کے قریب رہ گیا ہے اور وہ زمین پر پڑے ہوئے یوں معلوم ہوتے ہیں جیسے موم کی گڑیا ہوتی ہے اور وہ میری طرف اس طرح پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ گویا سمجھتے ہیں میں اُنہیں مار ڈالوں گا۔پھر میں نے انہیں کہا کہ ہمارے گھر سے اسی وقت چلے جاؤ، چنانچہ وہ باہر نکل گئے۔اتنے میں خواب میں ہی نماز کا وقت ہو گیا۔میں نماز کی تیاری کر رہا ہوں کہ میاں بشیر احمد صاحب میرے پاس آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ چوک میں کچھ پیغا می کھڑے ہیں جن میں مولوی صدر الدین صاحب بھی ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نائش کرنے والے ہیں کیونکہ انہوں نے ہم کو مارا ہے۔ہاں اگر وہ معافی مانگ لیں یا معافی نہیں مانگتے تو اظہار افسوس ہی کر دیں تو ہم نالش نہیں کریں گے ور نہ ضرور نالش کر دیں گے۔میاں بشیر احمد صاحب نے جب مجھے یہ بات کہی تو میں نے ان سے کہا کہ مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ، وہ بے شک مجھ پر نالش کر دیں۔میں نے