خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 569
۵۶۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوری جلد دوم ضروری خیال نہیں کرتے جو عام دنیوی مفاد کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں حالانکہ ہم براہ راست اپنے اُن بھائیوں تک جو اس وقت میدان جنگ میں گئے ہوئے ہیں کوئی چیز نہیں پہنچا سکتے۔اگر اُن تک کوئی چیز پہنچ سکتی ہے تو صرف ان محکموں کے ذریعہ جو گورنمنٹ نے مقرر کئے ہوئے ہیں۔پس اگر ہم ان چندوں میں حصہ نہیں لیں گے تو لازماً دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہوگی۔یا تو ہمارے بھائی ہر قسم کی امداد سے محروم رہیں گے اور یا ہمارے بھائیوں کے آرام اور ان کی راحت کا سامان ہندو، سکھ اور دوسرے مذاہب کے پیرو کریں گے ہم نہیں کریں گے اور یہ دونوں باتیں انتہائی بے غیرتی پر دلالت کرتی ہیں۔یہ بھی بے غیرتی ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کی امداد نہ کریں اور یہ بھی بے غیرتی ہے کہ غیر تو امداد میں حصہ لیں اور ہم کنارہ کش رہیں۔فوجی بھرتی میں حصہ لیں پس میرے نزدیک اس قسم کے کاموں میں جس حد تک حصہ لیا جا سکتا ہو اُس حد تک ضرور حصہ لینا چاہئے۔اس سے ہمارے نفس کے اندر یہ احساس ہمیشہ تازہ رہے گا کہ ہمارے بھائی جو میدانِ جنگ میں گئے ہوئے ہیں اُن کے آرام اور راحت کا خیال رکھنا ہمارے لئے ضروری ہے۔علاوہ ازیں آجکل جنگی اغراض کے لئے جو بھرتیاں ہو رہی ہیں ان میں بھی ہماری جماعت کے دوستوں کو زیادہ سے زیادہ حصہ لینا چاہئے مگر میں نے دیکھا ہے کہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہمیں اس میں حصہ لینے کی کیا ضرورت ہے حالانکہ قطع نظر اس سے کہ وہ ہزاروں لاکھوں لوگ جو باہر گئے ہوئے ہیں وہ ہمارے بھائی ہیں اور ان کی امداد کرنا ہمارا اخلاقی فرض ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ " یعنی وطن سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہوتی ہے۔پس وہ مائیں جن کے بیٹے جنگ کے لئے باہر گئے ہوئے ہیں، وہ بہنیں جن کے بھائی جنگ کے لئے باہر گئے ہوئے ہیں اور وہ بیٹے جن کے باپ جنگ کے لئے باہر گئے ہوئے ہیں قطع نظر اس کے کہ وہ ہندو ہیں یا سکھ ہیں یا عیسائی ہیں، ان کے غم اور دکھ کا ہم پر اثر انداز ہونا ایمان کے لحاظ سے ضروری ہے اور اس وجہ سے ہمارا فرض ہے کہ ہم فوجی بھرتی میں گورنمنٹ کو مدد دے کر اور خود اس میں حصہ لے کر اپنے ان بھائیوں کی امداد کریں۔یادرکھو فوج کو جب تک کمک نہیں پہنچتی اُس وقت تک اس فوج کے