خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 570

خطابات شوری جلد دوم ۵۷۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء سپاہیوں کی اپنی جانیں ہر وقت خطرہ میں گھری ہوئی ہوتی ہیں اور ان کی کامیابی بہت مشکل ہوتی ہے۔پس وہ لوگ جو فوجی بھرتی میں حصہ لیتے اور گورنمنٹ کی اس معاملہ میں مدد کرتے ہیں، یہ نہیں کہ وہ حکومت کی مدد کرتے ہیں بلکہ دراصل وہ اُن بھائیوں کی جولڑائی پر گئے ہوئے ہیں حفاظت کی کوشش کرتے ہیں۔یہ امر واضح ہے کہ جہاں دس سپاہیوں کی ضرورت ہو وہاں اگر پانچ سپاہی بھیجے جائیں گے تو ہلاک ہوں گے۔ہاں اگر دس کی بجائے پندرہ بھیج دیئے جائیں تو پہلے دس سپاہیوں کی جان بھی بچ جائے گی۔پس اس نقطہ نگاہ کو اچھی طرح سمجھ لو اور یاد رکھو کہ اگر تم فوجی بھرتی میں روک ڈالتے ہو، اگر تم ریکروٹنگ میں دلچسپی نہیں لیتے اور اگر تم کہتے ہو کہ ہمیں اس کی کیا پروا ہے تو جنگ میں مارے جانے والوں کے ذمہ دار خدا کے حضور تم قرار پاؤ گے کیونکہ اگر میدانِ جنگ میں کوئی ایک سپاہی بھی اس لئے مارا جاتا ہے کہ اگر اس کے ساتھ کوئی اور سپاہی ہوتا تو وہ بچ جاتا تو اُس کے قاتل وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے بھرتی میں رُکاوٹ ڈالی اور اسے دوسروں کی امداد سے محروم رکھا۔پس ہمارے وہ بھائی جو میدانِ جنگ میں جاچکے ہیں، خواہ وہ ظلم سے لے جائے گئے ہیں یا غلطی سے گئے ہیں بہر حال جو لوگ جا چکے ہیں ان کو بچانا ہمارا فرض ہے۔ان ایام میں اس قسم کے خیالات اپنے دلوں میں رکھنا کہ ہمیں اس جنگ سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے جو ہم سے پوچھ کر نہیں کی گئی حماقت اور نادانی ہے۔کیا ایک مکان جسے آگ لگی ہوئی ہو اُس میں اگر کوئی شخص عداوت سے کسی کا لڑکا اٹھا کر پھینک دے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ میں اپنے بچے کو کیوں بچاؤں، مجھ سے پوچھے بغیر اسے آگ کے اندر پھینک دیا گیا ہے۔وہ یقیناً ایسا نہیں کہے گا بلکہ اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔اسی طرح موجودہ وقت میں بجائے اس کے کہ بھرتی میں رکاوٹیں ڈالی جائیں یا یہ کہا جائے کہ جنگ ہم سے پوچھے بغیر کیوں کی گئی ہے تمام ہندوستانیوں کا فرض ہے کہ اس جنگ میں فتح حاصل کرنے کی کوشش کریں۔جنگ کے وقت ایک احتیاط اسی طرح ہندوستانیوں کی ایک اور بہت بڑی نادانی یہ ہے کہ وہ ادھر اُدھر کی باتیں سن کر یا اخباروں کی بعض خبروں سے نتائج نکال کر یا پھر جرمن ریڈیو کی جھوٹی اور مبالغہ آمیز خبریں سن کر جرمنی