خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 555

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء مکان پر تشریف لائے اور بڑے زور سے کہا۔بلاؤ مرزا صاحب کو، مجھے جہاں تک یاد ہے انہوں نے حضرت کا لفظ استعمال نہیں کیا۔میرا چونکہ اُن سے کوئی تعارف نہیں تھا اس لئے میں تو نہ سمجھ سکا کہ یہ کون دوست ہیں مگر کسی اور شخص نے مجھے بتایا کہ یہ میر حامد شاہ صاحب کے والد ہیں۔خیر میں گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے میں نے کہا کہ ایک بڑھا سا آدمی باہر کھڑا ہے اور وہ کہتا ہے کہ بلاؤ مرزا صاحب کو ، نام حسام الدین ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ سُنتے ہی اسی وقت اُٹھ کھڑے ہوئے اور سیڑھیوں سے نیچے اُتر نا شروع کر دیا۔ابھی آپ آخری سیڑھی پر نہیں پہنچے تھے کہ میر حسام الدین صاحب نے رو کر اور بڑے زور سے چیخ مار کر کہا کہ اس بڑھے واریں مینوں ذلیل کرنا ہے ساڈا تے تک وڈیا جائے گا۔یعنی کیا اس بڑھاپے میں آپ مجھے لوگوں میں رُسوا کرنا چاہتے ہیں میری تو ناک کٹ جائے گی اگر آپ واپس چلے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اس کا کچھ ایسا اثر ہوا کہ آپ نے فرمایا سید صاحب! ہم بالکل نہیں جاتے ، آپ بے فکر رہیں۔چنانچہ فوراً جماعت نے کیلیے گاڑ کر قناتیں لگا دیں اور شریعت کا منشاء بھی پورا ہو گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو شکایت تھی وہ دُور ہو گئی۔تو جن لوگوں کو رونا اور شور مچانا آتا ہے وہ دوسروں سے اپنی بات منوالیا کرتے ہیں۔اسی طرح اگر دوست اپنی اپنی جماعتوں میں واپس جا کر کہیں کہ تم نے ہمیں بڑا ذلیل کرایا۔ہم برابر سال بھر چندہ دیتے رہے اور ایک پائی بھی ہمارے ذمہ بقایا نہ رہا۔مگر وہاں جا کر ہمیں تمہاری وجہ سے ندامت اور شرمندگی اٹھانی پڑی تو بیسیوں لوگوں کے دلوں میں جوش پیدا ہو جائے گا اور وہ آئندہ اس سُستی کا ارتکاب نہیں کریں گے۔پس اپنے ان جوشوں کو نکالو نہیں بلکہ دباؤ اور اپنی جماعتوں کے سامنے ان کو ظاہر کرو اور انہیں ہوشیار اور بیدار کرنے کی کوشش کرو تا کہ انگلی دفعہ ان کا نام سوفیصدی چندہ ادا کرنے والی جماعتوں میں آجائے۔تبلیغ کا ایک اہم گر میں نے تبلیغ کے متعلق بھی کئی دفعہ بتایا ہے کہ لوگوں کو احمدیت میں داخل کرنے کا ذریعہ بھی یہی ہے کہ ان پر یہ ظاہر کرو کہ تمہیں ان کے ہدایت نہ پانے کا انتہائی صدمہ ہے۔تم فلسفیانہ رنگ میں ہزار دلیلیں دو تو ان کا اتنا اثر نہیں ہو سکتا جتنا اُس وقت اثر ہو سکتا ہے جب دوسرے کو تم یہ محسوس کرا دو کہ