خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 554
خطابات شوریٰ جلد دوم ۵۵۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء کریں تو اپنی انجمن کے افراد کے سامنے اور انہیں کہیں کہ محض تمہاری شستی کی وجہ سے یہ ندامت ہمیں پہنچی ہے۔اگر آپ ایسا کریں گے تو یقیناً آپ کی جماعت کے افراد میں بیداری پیدا ہو جائے گی اور آئندہ ایسی غلطی کے ارتکاب سے وہ بچ جائیں گے۔ہم نے تو دیکھا ہے جب کوئی شخص اس طرح کھلے رنگ میں اپنے جذبات درد کا اظہار کرے تو سننے والی طبیعت اثر قبول کئے بغیر نہیں رہتی۔ایک دلچسپ روایت میت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ سیالکوٹ تشریف لے گئے۔اتفاق سے جماعت نے آپ کے قیام کے لئے جو بالا خانہ تجویز کیا وہ بغیر منڈیر کے تھا آپ کو چونکہ اس بات کا علم نہیں تھا کہ اس مکان کی چھت پر منڈیر نہیں اس لئے آپ مکان میں تشریف لے گئے مگر جونہی آپ کو معلوم ہوا کہ اس کی منڈیر نہیں آپ نے فرمایا کہ منڈیر کے بغیر مکان کی چھت پر رہنا جائز نہیں اس لئے ہم اس مکان میں نہیں رہ سکتے۔پھر آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا ابھی سید حامد شاہ صاحب کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم کل واپس جائیں گے کیونکہ ایسے مکان میں رہنا شریعت کے خلاف ہے۔وہ بڑے مخلص اور سلسلہ کے فدائی تھے انہوں نے جب یہ سنا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے مگر کہا کہ بہت اچھا حضرت صاحب سے عرض کر دیجئے ہم انتظام کر دیتے ہیں۔جماعت کے دوستوں کو معلوم ہوا تو ایک کے بعد دوسرے دوست نے آنا شروع کر دیا اور انہوں نے کہا کہ حضرت صاحب سے عرض کیا جائے کہ وہ ہماری اس غلطی کو معاف فرما دیں ہم ابھی آپ کے لئے کسی اور مکان کا انتظام کر دیتے ہیں وہ خدا کے لئے سیالکوٹ سے نہ جائیں۔مگر شاہ صاحب نے فرمایا میں اس بات کو پیش کرنا ادب کے خلاف سمجھتا ہوں۔جب حضرت صاحب نے فرما دیا ہے کہ اب ہم واپس جائیں گے تو ہمیں حضور کی واپسی کا انتظام کرنا چاہئے۔اتنے میں ان کے والد میر حسام الدین صاحب مرحوم کو اس بات کا پتہ لگ گیا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت بے تکلفی کے ساتھ گفتگو فرمالیا کرتے تھے اور تھے بھی حضور کے پرانے دوستوں میں سے۔سیالکوٹ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو زمانہ ملازمت گزرا ہے اُس میں میر صاحب کے حضرت مسیح مود عود علیہ السلام کے ساتھ دوستانہ تعلقات رہ چکے تھے اس لئے وہ بے تکلفی سے گفتگو کر لیا کرتے تھے۔وہ یہ سنتے ہی۔