خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 556

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء اُس کے ہدایت نہ پانے کی وجہ سے تمہیں سخت تکلیف ہے۔کل ایک دوست نے ”الفضل“ کے متعلق بعض باتیں کہی تھیں جن کی میں نے تردید کی تھی۔آج میں نے اخبار والوں سے اندازہ لگوا کر معلوم کیا ہے کہ ایک پرچہ کی چھپوائی سوا پیسہ سے کچھ کم بنتی ہے اور ابھی اس میں دفتر کے اخراجات شامل نہیں ، ایڈیٹروں کے اخراجات شامل نہیں، ڈاک کے اخراجات شامل نہیں ، سٹیشنری وغیرہ کے اخراجات شامل نہیں۔اس کے علاوہ مجھے اپنی ایک غلطی بھی معلوم ہوئی میں نے خیال کیا تھا کہ خطبہ نمبر کی ایک آنہ قیمت ہوتی ہے مگر الفضل والے بتاتے ہیں کہ اگر خطبہ بڑا ہو تو اس کی ایک آنہ قیمت ہوتی ہے ورنہ بالعموم تین پیسے ہوتی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تین پیسے قیمت وصول کر کے ان کا خرچ سوا دو پیسے ہوتا ہے اور اس میں ابھی ایڈیٹوریل اخراجات شامل نہیں ، مکان کا کرایہ شامل نہیں، چپڑاسیوں اور دفتریوں کے اخراجات وغیرہ شامل نہیں۔گویا بقیہ رقم اس طرح خرچ ہو جاتی ہے۔بیشک اخبار کا کچھ حصہ ایسا ہے جو ڈاک میں نہیں جاتا اور اس طرح اخراجات میں تخفیف ہو جاتی ہے مگر اس صورت میں انہیں کمیشن دینا پڑتا ہے۔بہر حال پندرہ سو اخبار ۱۷۱۲ پیسوں میں چھپتا ہے اور اس خرچ میں کتابت ، ٹکٹ ، دفتری خرچ، سٹیشنری، ریپر، مکان کا کرایہ، روشنی اور پنکھے کا خرچ، ایڈیٹروں کی تنخواہیں اور ہنگامی اخراجات وغیرہ شامل نہیں۔اگر صرف ڈاک کا خرچ اس میں شامل کر لیا جائے تو فی پر چہ سوا دو پیسے خرچ آ جاتا ہے مگر عملہ کی تنخواہوں ، مکان کے کرایہ اور روشنی وغیرہ کے اخراجات پھر بھی اس سے علیحدہ ہوں گے۔غرض عملی طور پر یہ کیفیت ہے کہ بالعموم اخبار گھاٹے میں رہتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض خریدار نادہند ہوتے ہیں اور وہ پر چہ تو وصول کرتے رہتے ہیں مگر قیمت ادا نہیں کرتے اور جو ایجنٹ ہوتے ہیں وہ بھی بعض دفعہ اسی استی اور سوسو روپیہ کی رقم لے کر غائب ہو جاتے ہیں۔میں نے یہ قانون رکھا ہوا تھا کہ الفضل بغیر پیشگی قیمت وصول کئے کسی کے نام جاری نہ کیا جائے مگر بعض حالات کی وجہ سے وہ چونکہ قائم نہ رہ سکا اس لئے نتیجہ یہ ہوا کہ کسی کے ذمہ پندرہ روپیہ بقایا ہے کسی کے ذمہ دس روپیہ اور کسی کے ذمہ سات روپیہ۔بہر حال عملاً یہ کیفیت ہے کہ الفضل خسارے پر چل رہا ہے۔ممکن ہے باہر حالات کے مختلف ہونے کی وجہ سے کتابت اور طباعت زیادہ سستی ہو