خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 543
خطابات شوری جلد دوم ۵۴۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء کہاں ہے۔ایسے مضامین کے لئے کم سے کم دس پندرہ ہزار روپیہ کی لائبریری ہونی ضروری ہے۔مگر یہاں الفضل کے دفتر میں تو ۱۵ روپیہ کی کتابیں بھی نہیں ہوں گی۔کوئی کتاب کہیں سے ریویو کے لئے آگئی تو وہ ہوگی۔یا پھر کسی نے اپنی ذاتی کتابوں سے فائدہ اُٹھا لیا۔یہاں تو ایک انسائیکلو پیڈیا تک نہیں۔پس اس بات کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اچھے کام کے لئے اچھے سامان بھی ضروری ہیں۔یہ صحیح ہے کہ دوسرے شہروں سے نکلنے والے اخباروں کے پاس بھی بڑی بڑی لائبریریاں نہیں ہوتیں مگر وہ تو قیچی اخبار کہلاتے ہیں اور مضامین اِدھر اُدھر سے کاٹ کاٹ کر کاتبوں کو دیتے جاتے ہیں۔لالا دینا ناتھ صاحب پنجاب کے بہت پرانے اخبار نویس ہیں، میں ایک دفعہ شیخ یعقوب علی صاحب کے ساتھ اُن سے ملنے گیا تو دیکھا کہ ہاتھ میں قینچی ہے اور کوئی ٹکڑا کہیں سے اور کوئی کہیں سے کاٹ کاٹ کر کا تب کو دیتے جاتے ہیں پڑھنے والوں کو اس بات کا کیا علم۔وہ تو یہی سمجھتے ہیں کہ فلاں ایڈیٹر صاحب نے بہت محنت کی ہے لیکن الفضل ہمارا ند ہی پرچہ ہے اسے تو اس طرح پر نہیں کیا جاسکتا۔جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں قیمت پر جس دوست نے اعتراض کیا ہے وہ شوق سے آگے آئیں اور دمڑی یا دھیلہ میں ہی اخبار تیار کر کے دکھا دیں۔کتابت اور طباعت کی اجرتیں اگر زیادہ ہوں تو وہ انہیں کم کر سکتے ہیں، اسی طرح کاغذ کا نرخ اگر ارزاں ہو سکے تو کرالیں مگرستا اخبار نکال کر دکھا دیں۔میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ دہلی میں اگر ایسا ہوسکتا ہو تو ممکن ہے ہو سکے یہاں نہیں ہوسکتا۔اسی دوست نے دہلی کے ایک اخبار (ریاست) کا نام لیا ہے مگر یہ اخبار جس طرح نکلتے ہیں میں خوب جانتا ہوں۔امراء ، رؤساء اور والیان ریاست کو مرعوب کرتے اور دھمکیاں دیتے ہیں کہ ہمیں فلاں بات کا علم ہو چکا ہے اب ہم اسے شائع کر دیں گے اور اس طرح ان سے بڑی بڑی رقوم لیتے ہیں مگر ہم الفضل کو اس طرح نہیں چلا سکتے۔تاہم اگر وہ دوست چاہیں تو میں انہیں موقع دے سکتا ہوں۔یا کل کا دن ابھی مشاورت باقی ہے وہ میرے پاس آ کر حساب کر کے ہی بتا دیں کہ اس طرح دمڑی یا دھیلہ میں اخبار تیار ہوکر پیسہ میں پک سکتا ہے۔“۔اس کے بعد حضور نے سب کمیٹی کی تجویز کو پڑھ کر فرمایا کہ:-