خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 544
خطابات شوری جلد دوم " ۵۴۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء یہ تجویز اب دوستوں کے سامنے ہے۔بعض لوگوں نے اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ سب کمیٹی نے عمداً فاروق کا نام نہیں لیا جو اسے نقصان پہنچانے والی بات ہے۔مگر یہ الزام صحیح نہیں۔اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ سب کمیٹی نے سمجھا کہ اگر فاروق کا معتین طور پر نام لیا گیا تو جنبہ داری کا الزام اس پر عائد ہو سکے گا اور الحکم یا کوئی دوسرا اخبار کہہ سکے گا کہ اسے کیوں نظر انداز کیا گیا۔اس لئے کمیٹی نے کسی کا نام نہیں لیا مگر با قاعدہ ہفتہ وار نکلنے کی شرط لگا دی۔پس اس نے فاروق کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنے آپ کو اعتراض سے بچانا چاہا۔اس تجویز کے متعلق خادم صاحب نے یہ ترمیم پیش کی ہے کہ جس جماعت کے چندہ دہندگان کی تعداد ہیں یا بیس سے زیادہ ہو وہ لازماً روزانہ الفضل منگوائے اور جس جماعت کے چندہ دہندگان اس سے کم ہوں وہ کم سے کم الفضل کا خطبہ ایڈیشن یا فاروق خریدے۔اور مولوی مبارک علی صاحب کی ترمیم اس کے متعلق یہ ہے کہ صوبہ بنگال کے لئے بنگلہ اخبار احمدی کو الفضل کے خطبہ نمبر یا فاروق کا قائمقام سمجھا جائے اور یہ کہ اخبار اس وقت پندرہ روزہ ہے اس لئے ہفتہ وار کیا جائے۔اسے ہفتہ وار کرنا تو ہمارے اختیار میں نہیں۔باقی اسے فاروق یا الفضل کے خطبہ نمبر قرار دیئے جانے کے حق میں جو دوست ہوں وہ 66 کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۲۳۴ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا: - اس کے خلاف رائے لینے کی ضرورت نہیں۔پھر فرمایا : - جو دوست خادم صاحب کی ترمیم کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۱۱۳ احباب کھڑے ہوئے اور اس کے خلاف ۷۶۔حضور نے فرمایا :- ”میرے نزدیک یہ تجویز قابل عمل نہیں۔میں ہیں چندہ دہندگان افراد کی کئی جماعتیں ہیں جو روزانہ الفضل نہیں منگوا سکتیں۔دراصل زمیندار جماعتوں کے لئے یہ بہت مشکل ہے۔ایک دوست کو جو زمیندار تھے اور جن کی مالی حالت بہت خراب ہو رہی تھی میں نے پوچھا کہ آپ کی زمین کتنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی زمین تو بہت کافی ہے دو کنال ہمارے باپ نے چھوڑی تھی چار ہم نے خود پیدا کی۔زمین تو کافی ہے یہ کوئی خدا کی طرف