خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 542

خطابات شوری جلد دوم ۵۴۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء کا تکرار ضروری قرار دیا ہے اسی طرح دین کی باتوں کا تکرار بھی ضروری ہے۔یہ بات بھی صحیح نہیں کہ مولوی ابو العطاء کے مضامین کے سوا الفضل میں کام کا کوئی مضمون ہی نہیں ہوتا۔میں علماء کے مضامین کا اس وقت ذکر نہیں کرتا۔لاہور کے ایک طالب علم خورشید احمد صاحب کے مضامین بعض اوقات الفضل میں چھپتے ہیں جو بہت اچھے ہوتے ہیں اور میں ہمیشہ ان کو دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔حوالے بھی گو بالکل نئے تو نہیں ہوتے تاہم ایسے ضرور ہوتے ہیں جو عام طور پر مستعمل نہیں ہیں۔پس یہ بالکل صحیح نہیں کہ مولوی ابوالعطاء کے مضامین کے سوا کوئی اچھا مضمون نہیں ہوتا۔پھر میر محمد الحق صاحب کا درس حدیث چھپتا ہے۔اس کی کسی ت سے مجھے اختلاف بھی ہو سکتا ہے مگر اس میں شک نہیں کہ وہ بہت مفید سلسلہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات اور آپ کی زندگی کے واقعات نہایت مؤثر پیرا یہ میں اور تکرار کے ساتھ سامنے آتے رہتے ہیں اور یہ سلسلہ علمی اور عملی دونوں لحاظ سے بہت مفید ہے۔کہا گیا ہے کہ باسی خبروں اور بعض مضامین وغیرہ کو پڑھ کر لوگ ہنسی اُڑاتے ہیں لیکن لوگوں کی ہنسی کا کیا ہے لوگ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتوں کی بھی ہنسی اُڑایا کرتے تھے اور اب بھی اڑاتے ہیں۔پس لوگوں کی ہنسی اگر کوئی معیار ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتوں کو بھی نعوذ باللہ قابلِ اعتراض ماننا پڑے گا۔پس لوگوں کی ہنسی کوئی چیز نہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ الفضل میں ترقی کی گنجائش نہیں اور اس سے اچھے مضامین لکھے نہیں جاسکتے لیکن یہ بھی تو یاد رکھنا چاہئے کہ ایسے مضامین جو پہلے نظر سے نہ گزرے ہوں اور جو بالکل اچھوتے ہوں وہ تو اس صورت میں لکھے جا سکتے ہیں کہ سٹاف بھی بہت اعلیٰ درجہ کا تعلیم یافتہ ہو۔اور ظاہر ہے کہ ایسے آدمی فی الحال ہمارے پاس نہیں ہیں۔ایسے آدمی واقفین میں سے مل سکتے ہیں مگر وہ ابھی تیار نہیں ہو سکے۔اور پھر اگر غیر واقفین میں سے ایسے لوگ مل بھی جائیں تو وہ تنخواہیں بھی تو بڑی بڑی لیں گے۔اگر سکول کا ہیڈ ماسٹر بن کر ایک شخص اڑھائی سو روپیہ ماہوار لے سکتا ہے تو ایڈیٹر کیوں اتنی بلکہ اس سے زیادہ کا مطالبہ نہ کرے گا۔وہ بھی کہہ سکتا ہے کہ جیسی خدمت وہ کرتا ہے ویسی ہی میں کرتا ہوں۔پھر ایسے اچھوتے مضامین لکھنے کے لئے عملہ الفضل کے پاس ضروری لٹریچر ?