خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 525

خطابات شوری جلد دوم ۵۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء ہے اور میں نے تصدیق کی نیت سے اس کا تکرار کیا اور دریافت کیا کہ اچھا آپ نے یہ بات فرمائی تھی۔یہ بالکل ویسی ہی بات تھی جیسے کوئی شخص ہمارے سامنے آتا ہے تو ہم کہتے ہیں اچھا آپ آگئے ! حالانکہ وہ تو سامنے کھڑا ہوتا ہے اس سے صرف اظہار خوشی مقصود ہوتا ہے، اسی طرح ان کی بات سن کر میں نے تصدیق کے لئے کہا کہ اچھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے یہ بات یوں فرمائی تھی! اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ مجھے ان پر کوئی شبہ ہے مگر میرے اس سوال پر وہ رونے لگ گئے اور اتنا روئے کہ ہچکی بندھ گئی اور مجھے خطرہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں بے ہوش نہ ہو جائیں۔بہت دیر کے بعد خاموش ہوئے تو میں نے کہا کہ رونے کی کیا وجہ تھی؟ انہوں نے کہا کہ آپ نے جو دریافت کیا تو میں نے سمجھا کہ میں عالم نہیں ہوں شاید بیان میں کوئی غلطی کر گیا ہوں اور ایسا نہ ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کوئی افتراء کر جاؤں، حالانکہ میں نے تو تصدیق کے لئے اور اس وجہ سے کہ وہ بات مجھے لطیف معلوم ہوئی یہ پوچھا تھا مگر انہوں نے سمجھا کہ شاید مجھ سے غلط بات بیان ہوگئی ہے اور اس وجہ سے رونے لگے۔میرے دل پر اُن کی اِس خشیت کا بڑا اثر ہوا کہ وہ محض اس شبہ سے کہ مجھ سے کوئی غلط بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے منسوب نہ ہوگئی ہو اور مجھے خدا تعالیٰ کے حضور اس پر گرفت نہ ہو اس قدر روئے اس قدر روئے کہ ہچکی بندھ گئی۔صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلوص کے رنگ صحابہ میں بھی ایسے لوگ تھے۔حضرت زبیر کے متعلق آتا ہے کہ ایک دفعہ ان کے لڑکے نے کہا کہ ابا جان! آپ بھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شروع سے رہے ہیں دوسرے لوگ جو آپ سے بعد میں آئے بہت سی احادیث بیان کرتے ہیں مگر آپ نہیں کرتے۔آپ یہ بات سن کر فرمانے لگے کہ بات یہ نہیں کہ مجھے ان سے کم باتیں معلوم ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو کوئی میری طرف غلط بات منسوب کرے گا اُس کا ٹھکانا جہنم ہے۔اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو میں کسی بات کو صحیح سمجھوں اور وہ دراصل غلط ہو اور اس وجہ سے میں عذاب میں مبتلا ہو جاؤں۔یہ صحیح ہے کہ ایسے لوگ دین کو قائم کرنے والے نہیں ہوتے