خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 524
خطابات شوری جلد دوم ۵۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء دور رفقاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیصلوں کی اہمیت اس طرح گو آج ہماری پوزیشن معمولی ہے مگر کل جب احمدیت پھیلے گی اور دنیا میں اسے ترقی حاصل ہوگی تو ہماری باتیں ان کے نزدیک اس سے بھی بڑا درجہ رکھیں گی جو آج امام ابوحنیفہ کی باتوں کو حاصل ہے اور گو بعد میں بڑے بڑے فقہاء پیدا ہوں اور ظاہری علوم کے لحاظ سے بہت آگے بڑھے ہوئے ہوں پھر بھی احمدیت کو جو مقام حاصل ہونے والا ہے اس کے باعث آپ لوگوں کی حیثیت ان فقہاء اور علماء سے ہمیشہ بڑی سمجھی جائے گی۔آج یہاں جو فیصلے کئے جاتے ہیں یہ صرف یہیں تک محدود نہیں رہ سکتے بلکہ یہ دنیا کی راہنمائی کے لئے ستارے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِآتِهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمُ۔یعنی میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔یعنی جس طرح ستارے قائم ہیں اسی طرح ان کی ہدایت بھی ہر وقت قائم رہے گی اور تم ان میں سے جس کے پیچھے بھی چل پڑو گے ہدایت پا جاؤ گے اور یاد رکھو کہ آئندہ نور ہدایت کی اشاعت اور دنیا کی راہ نمائی اسی سلسلہ سے ہوگی۔باقی سب راستے بند ہو چکے ہیں اور وہ ایسی کھڑکیاں ہیں جن کو بند کر دیا گیا مگر احمدیت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے اور آئندہ لوگ اسی سے ہدایت اور راہ نمائی حاصل کریں گے اور اس بات کو ہر وقت مد نظر رکھنا چاہئے اور اپنے اقوال اور افعال کی نگرانی کرتے رہنا چاہئے۔احمدیت کے ذریعہ اسلام کو ایک نئی روشنی دی گئی ہے اور اسلام کی ایک نئی تعبیر کی گئی ہے اور اس تعبیر کو صحیح طور پر وہی لوگ بیان کر سکتے ہیں جنہوں نے اس کے بیان کرنے والوں کی صحبت پائی ہے۔ایک ایمان افروز روایت مجھے ایک دوست کا لطیفہ ہمیشہ یاد رہتا ہے وہ آئے اور مجھے کہا کہ آپ سے ایک بات کرنی ہے وہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت مقرب تھے ، میں نے کہا بہت اچھا۔میں انہیں مسجد کے ساتھ والے کمرہ میں لے آیا۔وہ کہنے لگے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک تفسیر سُنی ہوئی ہے وہ آپ کو سُناتا ہوں اور وہ سُنانے لگے، کوئی آدھ گھنٹہ سناتے رہے۔ایک موقع پر کوئی بات تھی جو مجھے اچھی معلوم ہوئی اور میں نے محسوس کیا کہ یہ نئی بات