خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 526

خطابات شوری جلد دوم ۵۲۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء اور یہ محض خشیت اللہ کا مظاہرہ ہے ورنہ جب انسان سمجھتا ہے کہ جو کچھ میں کہ رہا ہوں یہ صحیح ہے اور اس میں ایک ذرہ کی بھی کمی بیشی میری طرف سے نہیں ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور بری ہے۔حضرت ابوذر سے کسی نے کہا کہ آپ بعض باتیں ایسی کہہ دیتے ہیں جن سے لوگوں کو ٹھوکر لگنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو آپ نے کہا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ اگر تمہاری گردن پر تلوار رکھی ہو اور تمہیں کوئی بات معلوم ہو تو اسے بیان کرنے میں جلدی کرو تا تلوار چلنے سے پہلے وہ بیان ہو جائے اس لئے میں نے جو بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے وہ بیان کرتا جاؤں گا۔۔یہ دو مختلف اور متضاد پہلو ہیں اور اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بات کرنے میں یہ دونوں پہلو ہو سکتے ہیں اس لئے بہت احتیاط کرنی چاہئے۔ایک تاریخی واقعہ کی تصحیح ہم لوگوں پر بڑی ذمہ داری ہے آئندہ نسلیں ہم کو انتہائی ادب اور احترام کی نظر سے دیکھیں گی۔اس زمانہ میں ایک یہ خرابی پیدا ہو چکی ہے کہ روایات بہت غلط ہو جاتی ہیں کیونکہ اس زمانہ میں کتابوں کی اشاعت عام ہو جانے کی وجہ سے حفظ کرنے کی عادت بہت کم ہو گئی ہے۔پچھلے دنوں الفضل، میں بعض غلط روایات شائع ہوئیں میں نے خود تو اُن کی تردید مناسب نہ سمجھی مگر بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی سے کہا کہ آپ کو تو سب واقعات کا علم ہے آپ کیوں صحت نہیں کرتے ؟ میاں مہر اللہ صاحب نے لکھا تھا کہ ایک دفعہ یہاں ڈپٹی کمشنر آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود اس کے استقبال کیلئے گئے۔حالانکہ ڈپٹی کمشنر نہیں بلکہ فنانشل کمشنر آیا تھا اور آپ خود تشریف نہیں لے گئے تھے بلکہ آپ نے مجھے دوسرے دوستوں کے ساتھ بھیجا تھا۔ہمارا خاندانی طریق یہ رہا ہے کہ جب کوئی بڑا افسر آئے تو شہر کے باہر اُس کے استقبال کے لئے خاندان کا رئیس خود نہیں جاتا بلکہ جو دوسرے درجہ پر ہو اُسے بھیجا جاتا ہے اس لئے آپ نے مجھے بھیجا، خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب میرے ساتھ تھے اور غالبا شیخ رحمت اللہ صاحب بھی۔ہم سب گھوڑیوں پر گئے۔میرے پاس تو اپنی گھوڑی تھی باقیوں کے لئے مانگ لی گئیں۔پھر قادیان پہنچنے پر مولوی شیر علی صاحب