خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 520
۵۲۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوری جلد دوم قادیان میں آئے ہی نہیں۔یہاں ہم مشورہ کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں اَلْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمِنٌ ، جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ امین ہوتا ہے اور چونکہ امانت میں خیانت جائز نہیں اس لئے اگر کوئی دوست کسی ایسے دوست کا نام پیش کر دیتے ہیں جو آئے ہی نہیں تو وہ امانت میں خیانت سے کام لیتے ہیں۔ممبران سب کمیٹی کے فرائض اسی طرح جو دوست سب کمیٹیوں کے لئے تجویز کئے جائیں انہیں چاہئے کہ وہ محنت سے کام کریں اور کوشش کریں کہ سلسلہ کی مشکلات کے حل کے لئے جو تجاویز پیش کریں وہ ایسی ہوں جن پر عمل کیا جا سکتا ہو۔شروع شروع میں بہت سے دوست محض ایک تحریک کی خاطر ایسی کئی تجاویز پیش کر دیتے تھے جو گو اچھی ہوتی تھیں مگر ہم اُن پر عمل نہیں کر سکتے تھے لیکن اب بالعموم ایسی ہی تجاویز پیش کی جاتی ہیں جو ہمارے دائرہ عمل میں ہوتی ہیں اور جن کے بجالانے پر ہم قدرت رکھتے ہیں۔بہر حال یہ ایک ضروری امر ہے کہ مجلس شوریٰ میں جو تجویزیں پیش کی جائیں وہ ایسی ہی ہوں جو عمل کے قابل ہوں۔ایسی نہ ہوں جن پر ہم عمل ہی نہ کر سکتے ہوں۔خواہ مقدرت کی کمزوری کی وجہ سے ، خواہ اس وجہ سے کہ حالات ان پر عمل کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوں، خواہ اس وجہ سے کہ ان پر عمل کرنے سے کوئی فتنہ پیدا ہوتا ہو اور خواہ اس وجہ سے کہ ان سے بہتر تجاویز پہلے موجود ہوں۔مجلس شورا ی کی ایک اہم چیز میں اب زیادہ تقریر کرنا نہیں چاہتا اور اسی پر اکتفا انا کرتے ہوئے ایجنڈا کی تجاویز پر غور کرنے کے لئے مختلف سب کمیٹیوں کے ممبران کے انتخاب کا سوال دوستوں کے سامنے پیش کرتا ہوں۔مگر ایک غلطی ہے جس کی طرف میں توجہ دلا دیتا ہوں اور وہ یہ کہ اس سال کے ایجنڈے میں بجٹ کا ذکر ہی نہیں حالانکہ مجلس شوریٰ میں سب سے اہم چیز جو قابل مشورہ ہوتی ہے وہ بجٹ ہوتا ہے۔پس اگر ہم اس ایجنڈے پر عمل کریں تو بجٹ پر بحث ہو ہی نہیں سکتی۔ناظر صاحب بیت المال کہتے ہیں کہ وہ ایجنڈے میں بجٹ کا ذکر کرنا بھول گئے ہیں مگر یہ ٹھول بہت بھاری ہے اور ایسی ہی ہے جیسے کہیں برات پہنچے تو وہ کہے غلطی ہوگئی دولھا کو ہمراہ لانا تو یاد ہی نہیں رہا۔ایسی بھول بہت مشکل سے ہوتی ہے مگر خیر یہ مشکل کام ہمارے ناظر صاحب