خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 470

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء جذبات قابو میں رکھیں پس تم جوش کی حالت میں اپنے جذبات کو قابو میں رکھو اور جب تمہارے جذبات میں ٹھنڈک ہو تو تم اپنے قلب میں جوش پیدا کرو۔جب جذبات جوش کی حالت میں ہوں تو دلائل مہیا کرنے کی کوشش کرو اور جب دلائل سے تمہیں اطمینان ہو تو تم اپنے جذبات کو حرکت میں لاؤ تا جو بھی تم رائے دو وہ سموئی ہوئی ہو اور وہ بات پیش کرو جو تمہارے لئے ممکن ہو اور جو خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا کا موجب ہو۔اگر اِن امور کو مدنظر نہ رکھا جائے تو مشورہ بالکل بیکار ہو جاتا ہے اور وہ غرض پوری نہیں ہو سکتی جو اس مجلس شوری کا اصل مقصد ہے۔چنانچہ ابھی جو بجٹ سے کم چندہ دینے والی جماعتوں کے اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں وہ کتنے خطرناک ہیں۔اور زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ بالعموم بقائے اُنہی جماعتوں کے ہیں جن کے نمائندے سب سے زیادہ قربانی پر زور دیا کرتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے وہ ہمارے سامنے ہی قربانی پر زور دینے کے عادی ہیں جماعتوں کے سامنے قربانی کا مطالبہ پیش نہیں کیا کرتے۔اگر وہ اپنی جماعتوں کو بھی قربانی کی تحریک کرتے اور مسلسل کرتے رہتے تو آج انہیں کیوں شرمندگی اُٹھانی پڑتی۔پس تم ایسا طریق اختیار کرو جو درمیانہ اور وسطی ہو۔ادھر اپنے آپ پر بوجھ ڈالو اور اُدھر اپنے ساتھی سے بھی کہو کہ وہ بوجھ اُٹھائے۔چنانچہ قرآن کریم میں جہاں بھی خدمات بجالانے کی تحریک کی گئی ہے وہاں ہمیشہ دوسروں کو بھی نیک بات کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔یا مفاعلہ کا باب استعمال کیا گیا ہے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ کام خود بھی کرو اور دوسروں سے بھی کرواؤ۔مثلاً فرماتا ہے صَابِرُوا خود صبر کرو اور دوسروں سے صبر کرواؤ۔رَابِطُوا اسلام کی سرحدیں مضبوط کرو اور دوسروں کو اس بات پر آمادہ کرو کہ وہ اسلام کی سرحدیں مضبوط کریں۔غرض ایک مومن کا یہی طریق ہوتا ہے کہ نیکی میں پہلے خود نمونہ بنتا ہے اور پھر دوسروں کو اس کی تحریک کرتا ہے۔مومن اکیلا ہی قربانی کرتا ہے باقی جو قربانی کرنے والے ہیں اُن سے بھی میں کہوں گا کہ وہ میرے ان الفاظ کے یہ معنے نہ لے لیں کہ اُن پر جو فرض عائد تھا وہ ادا ہو گیا۔مومن اکیلا ہی خدا تعالیٰ کے راستہ میں قربانی کیا کرتا