خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 469
خطابات شوری جلد دوم ۴۶۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں جانے دو اور کارکنوں کے گزاروں میں سے جس قدر کاٹا جا سکتا ہے وہ کاٹ کر رکھ لیا جائے آخر یہ فرق کیوں ہے؟ ایمان نہیں بدل گیا ، حالات نہیں بدل گئے ، تجویز نہیں بدل گئی، واقعات میں کوئی تغیر نہیں ہوا، پھر یہ فرق کس لئے ہے؟ کیا محض اس لئے کہ ہماری جماعت کے بعض دوست بھیڑ چال چلنے کے عادی ہیں؟ غور اور فکر سے کام نہیں لیتے ؟ ایک دوست نے اگر کہہ دیا کہ کارکنوں سے کچھ نہ لو تو سب کہنے لگ جاتے ہیں کہ کچھ نہ لو، کچھ نہ لو۔اور اگر ایک دوست نے کہہ دیا کہ کاٹ لو تو سب کہنے لگ جاتے ہیں کہ کاٹ لوکاٹ لو۔اگر ہم کسی اصول پر بات کرنے کے عادی ہوں تو دس سال تک بھی ہماری رائے نہیں بدل سکتی جب تک نئے دلائل اور نئے حالات پیدا نہ ہو جائیں جو ہمیں اپنی پہلی رائے کو تبدیل کرنے پر مجبور کر دیں۔لیکن اگر ہم بھیٹر چال چلیں تو ہر منٹ اور ہر لحظہ ہماری بات بدل سکتی ہے۔میں نے ایک ملک کی تاریخ پڑھتے ہوئے کسی تاریخی کتاب میں یہ لکھا ہوا دیکھا تھا کہ اس ملک کی یہ حالت تھی کہ ایک منٹ کے اندر وہ کسی کے سر پر حکومت کا تاج رکھتے تو دوسرے منٹ ہی اُس کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال دیتے۔یہی حالت بہت دفعہ ہمارے بعض نمائندوں کی بھی ہو جاتی ہے۔کسی نے کہہ دیا قربانی ! قربانی ! تو سب شور مچانے لگ جاتے ہیں کہ قربانی قربانی اور اگر کسی نے کہا کہ بوجھ بوجھ ، تو وہ شور مچانے لگ جاتے ہیں کہ بوجھ بوجھ۔یہ بہت ہی ناقص طریق ہے اور دراصل غیر احمدیت والی حالت ہے کہ وہ معاملات پر صحیح رنگ میں غور نہیں کرتے بلکہ جب جوش میں آتے ہیں تو بغیر عواقب کو دیکھے قربانی کے میدان میں کود جاتے ہیں اور جب پیچھے ہٹتے ہیں تو اُس وقت بھی ان کی حالت مضحکہ خیز ہو جاتی ہے۔یہ طریق بہت ہی نا پسندیدہ ہے۔ہر بات جو تمہارے سامنے پیش ہو پہلے اُس پر غور کرو، سوچو سمجھو، اور اگر اُس کے متعلق کوئی بات کہنا چاہو تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہوئے کہو اور ہمیشہ وسطی راستہ اختیار کیا کرو۔یہ نہ دیکھنا کہ زمانہ کی کیا حالت ہے، یہ نہ دیکھنا کہ جماعت کی کیا حالت ہے، یہ نہ دیکھنا کہ صحیح بات کون سی ہے اور یونہی جوش کی حالت میں بولتے چلے جانا مومنانہ شیوہ نہیں۔