خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 471
۴۷۱ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء ہے اور دراصل وہ مومن ہی نہیں جو دوسرے کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھتا ہے کہ وہ میری مدد کے لئے آتا ہے یا نہیں۔مجھے اپنے زندگی کے کاموں میں سے جو بہترین کام نظر آیا کرتا ہے اور جس کا خیال کر کے بھی میرا دل خوشی سے بھر جاتا ہے وہ وہی واقعہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر پیش آیا اور جس کا میں کئی دفعہ ذکر کر چکا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب وفات پاگئے تو میرے کانوں میں بعض لوگوں کی یہ آواز آئی کہ اب کیا ہو گا؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہت سی پیشگوئیاں ابھی پوری نہیں ہوئیں اور لوگ ان کی وجہ سے ہم پر اعتراض کریں گے۔میں اُس وقت ایک کمرہ سے نکل کر دوسرے کمرہ کی طرف جا رہا تھا کہ یہ آواز میرے کانوں میں آئی۔میں نے اس آواز کو سُنا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سرہانے کھڑے ہو کر میں نے خدا تعالیٰ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اے خدا! میں حضرت مسیح موعود کے جسم کے سامنے کھڑے ہو کر تیرے حضور یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت بھی مرتد ہو گئی تو میں اکیلا ہی تیرے دین کی اشاعت کروں گا۔پس مومن کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ دوسروں کی طرف دیکھے بلکہ وہ اکیلا اپنے آپ کو ہی خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ سمجھتا ہے۔بے شک جن جماعتوں نے سستی کی ہے میرا فرض ہے کہ میں انہیں توجہ دلاؤں مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ اگر اُنہوں نے قربانی کی تو میں کروں گا اور اگر نہ کی تو نہیں کروں گا۔میرا قربانی کرنا اس لئے نہیں کہ وہ بھی قربانی کریں بلکہ میں تو اپنے مقام پر قربانی کرتا چلا جاؤں گا کیونکہ میرا خدا سے براه راست معاملہ ہے۔اسی طرح ہر مومن کا خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق ہوتا ہے اور خواہ اس کا کوئی ساتھ دینے والا ہو یا نہ ہو وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرتا چلا جاتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ہمیں اس کا نہایت اعلیٰ نمونہ نظر آتا ہے۔صحابہ کا اخلاص بدر کی جب جنگ ہوئی تو اس وقت صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک عرشہ پر بٹھا دیا اور ارد گرد مضبوط پہرہ لگا کر تیز رو اونٹنیاں آپ کے پاس کھڑی کر دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ اونٹنیاں کیسی ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم نے یہ اونٹنیاں یہاں اس لئے باندھی