خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 454

خطابات شوری جلد دوم ۴۵۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء پس ہماری کامیابی بھی خدا تعالیٰ کے حضور جھکنے اور آہ و زاری کرنے سے ہو گی ان بجٹوں وغیرہ سے نہیں۔یہ تو یونہی ہیں اصل چیز وہی ہے اور یہی چیز ہے جو اگر اس مجلس کے نمائندے یہاں سے لے کر جائیں تو کامیاب ہوں گے۔وہ فیصلہ کر لیں کہ اپنے دلوں میں عجز وانکسار اور خشیت پیدا کریں گے اور دوسروں کے دلوں میں بھی۔اگر وہ ایسا کر لیں تو اللہ تعالیٰ ایک دن میں تغیر عظیم پیدا کر دے گا اور ہماری کامیابی کا یہی ایک ذریعہ ہے۔نادان ہے وہ شخص جو اس کے خلاف خیال کرتا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ہماری کامیابی ان سامانوں اور ان ذرائع سے ہو گی جو ہم اختیار کرتے ہیں وہ احمدی نہیں اور اس سے زیادہ بے وقوف کوئی نہیں۔ہمارے سامان ہیں کیا جو ہمیں دُنیا پر غالب کر سکتے ہیں۔یہ سامان تو انگلستان یا جرمنی کے ایک ایک گاؤں کے برابر بھی نہیں ہیں۔ہندوستان میں ایسے ایسے مال دار لوگ موجود ہیں کہ ان کی ایک ایک ماہ کی آمد کے برابر ہمارے سارے سال کا بجٹ نہیں ہوتا اور ظاہر ہے کہ اس بجٹ پر اپنی کامیابی کا انحصار رکھنا انتہائی بے وقوفی ہے۔ایک مبشر رویا اس کے متعلق میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے جو بیان کر دیتا ہوں۔پہلے تو میں اس سے ڈر گیا مگر بعد میں غور کیا تو معلوم ہوا کہ مبشر ہے۔میں نے دیکھا کہ میں ملاقات کے دفتر میں بیٹھا ہوں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ صحن میں دو ہوائی جہاز ہیں۔جن میں سے ایک میں دُنیا کی حکومت اور دوسرے میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور عشق ہے اور یہ دونوں اکٹھے پرواز کرنے لگے ہیں۔جب وہ اُڑنے لگے ہیں تو آواز آتی ہے اور میں پوچھتا ہوں کہ کیا بات ہے؟ میری بیویاں پاس ہیں اور وہ بتاتی ہیں کہ دونوں جہاز اُڑے ہیں۔ہم لوگ چونکہ ہوائی جہازوں میں پرواز کے عادی نہیں اس لئے عام طور پر اس میں سفر کو ہندوستان میں خطرناک سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ جب مجھے بتایا جاتا ہے کہ دُنیا کی حکومت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عشق علیحدہ علیحدہ ہوائی جہاز میں پرواز کرنے لگے ہیں تو میں گھبرا کر کہتا ہوں کہ اوہو! یہ ہوائی جہاز میں گئے ہیں کہیں کوئی حادثہ نہ پیش آ جائے اور میں برآمدہ میں کولوں (PILLERS) کے پاس کھڑا ہو کر دیکھتا ہوں وہ مشرق کی طرف جاتے ہیں۔میں افق کی طرف دیکھتا ہوں مگر وہ کہیں واپس آتے ہوئے نظر نہیں آتے۔میں گھبرا کر کہتا ہوں کہ چلو ان کی تلاش کریں۔رات کا وقت ہے میں