خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 453

۴۵۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء خطابات شوری جلد دوم ان کے ماننے والے کتنے مصائب برداشت کرتے رہے۔وہ مدتوں شیروں کے غاروں میں رہے۔میں نے خود اٹلی کے پاس وہ غار دیکھے ہیں جن میں عیسائی پناہ گزیں ہوئے اور ان میں اتنی اتنی فٹ زمین کے نیچے وہ چھپے رہتے تھے۔سالہا سال باہر نہیں نکلتے تھے اور کبھی کوئی شہر میں جاتا بھی تو چوری چوری اور چھپ چھپ کر مگر صرف ایک دن میں یہ تمام نقشہ بدل گیا۔ایک بادشاہ نے خواب دیکھا کہ مسیح خدا تعالیٰ کا پیارا تھا اور اس خواب کے نتیجہ میں اس نے مسیحیت میں نرمی کا برتاؤ شروع کر دیا اور ان میں سے جب کوئی شہر میں کوئی چیز وغیرہ لینے کے لئے آیا تو حیران رہ گیا کیونکہ وہاں نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔بے شک آپ نے دشمنوں کو شکستیں بھی دیں مگر قلوب میں تغیر یکدم ہوا۔چنانچہ ایک سال اتنے لوگ اسلام میں داخل ہوئے کہ اس کا نام ہی سالِ وفود رکھ دیا گیا۔مختلف قبائل کے وفود دوڑے چلے آتے تھے کہ دوسرے سے پہلے اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کریں مگر وہ دن ظاہری سامانوں سے نہیں آیا۔سامان وہی تھے جو پہلے تھے مگر نتائج بدل گئے اور یہ انقلاب ہمیشہ خدا تعالیٰ کے حضور چیخ و پکار اور آہ وزاری سے ہوتا ہے۔مگر یہ دن تب آتا ہے جب خدا تعالیٰ کے بندوں کا دکھ درد انتہاء کو پہنچ جاتا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ ایک دن ایسا آتا ہے جب مومن ہماری کامیابی کا راز بے قرار ہو کر پکارتے ہیں۔کہ متى تضر الله ! اس وقت اللہ تعالیٰ کی نصرت آتی ہے اور اس جماعت کو کامیاب کر دیتی ہے ورنہ تبلیغ کے ذریعہ جو ترقی ہوتی ہے وہ بہت تھوڑی ہوتی ہے۔میں نے ایک دفعہ حساب کیا تھا کہ موجودہ رفتار سے ہم تین ہزار سال میں دُنیا پر غالب آ سکتے ہیں مگر یہ حسابی اندازہ ہے اور خدا تعالیٰ مومنوں کو بغیر حساب کے دیتا ہے۔کچھ عرصہ تک ایسے حساب چلتے ہیں مگر ایک دن ایسا آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دیتا ہے کہ اب ان کو بغیر حساب دو۔پہلے وہ لوگ مغلوب اور مقہور ہوتے ہیں مگر یکدم غالب اور منصور ہو جاتے ہیں لیکن انقلاب قلوب کی حالت سے پیدا ہوتا ہے۔جب مومن متى نصر اللہ پکارتے ہیں اور چلاتے ہیں تب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہماری نصرت قریب ہے، وہ آتی اور کایا پلٹ دیتی ہے۔