خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 455

خطابات شوری جلد دوم ۴۵۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء تلاش کے لئے نکلتا ہوں اور خیال کرتا ہوں کہ مدرسہ احمدیہ کے طلباء کو ساتھ لے لوں۔وہاں جاتا ہوں تو طالب علم کھیل رہے ہیں۔میں ان سے کہتا ہوں کہ سب چلومگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک غیر احمدی لڑکا بھی ان میں ہے جو مجھے جانتا نہیں اور وہ کہتا ہے کہ ہیڈ ماسٹر صاحب کی اجازت نہیں ہم کیسے جائیں۔مگر ایک احمدی لڑکا اسے ڈانٹتا اور کہتا ہے کہ خاموش رہو تمہیں پتہ نہیں یہ حضرت خلیفتہ المسیح ہیں اور ان کی اجازت کے بعد کسی دوسرے کی اجازت کی ضرورت نہیں۔میں ان لڑکوں کو ساتھ لے کر مغرب کی طرف جاتا ہوں اور ایک جگہ سے بڑے زور زور سے چیخنے اور چلانے کی آوازیں آ رہی ہیں اور معلوم ہوا کہ جس جہاز میں دُنیا کی حکومت اور بادشاہت تھی وہ واپس آ گیا ہے مگر جس میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت تھی اُسے ایکسیڈنٹ پیش آیا جس سے جہاز ٹوٹ گیا اور وہ مرگئی اور زور زور سے رونے کی آوازیں آرہی ہیں مگر وہاں لاش کے کوئی آثار نہیں۔کچھ لوگ ہوائی جہاز کو نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لئے مٹی کھود رہے ہیں مگر کچھ نہیں نکلا۔اور اس کوشش میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہاتھی مرکز گرا ہوا ہے۔اور خواب میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اتنا پرانا ہے کہ ہاتھی بھی گل سڑ کر خاک ہو چکا ہے اور جب اُس پر پھاوڑے مارتے ہیں تو مٹی کا ڈھیر کٹ کٹ کر علیحدہ ہوتا ہے۔اس ہاتھی کی تمام مٹی ہٹانے کے بعد لاش اُس کے نیچے سے نکلتی ہے اور ایک شخص بڑے افسوس کے ساتھ کہتا ہے کہ یہ محبت کی لاش ہے اور میں اسے دیکھ کر اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہتا ہوں۔یہ لاش بالکل ایسی ہے جیسے گتے کے اوپر کوئی تصویر ہوتی ہے اور بوجھ کی وجہ سے پچک گئی ہے۔سر اور دھڑ کا گوشت بالکل کھایا جا چکا ہے اور ڈھانچہ بالکل اُسی طرح چپکا ہوا ہے جیسے گئے پر تصویر ہوتی ہے۔لاتیں بھی نظر تو آتی ہیں مگر بالکل ہڈیاں ہیں۔سب لوگ اسے دیکھ کر رو رہے ہیں۔میں اُس کے قریب پہنچتا ہوں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک پتلا سا ڈھانچا ہے۔میں قیاس کر کے اُس کے دل پر ہاتھ رکھتا ہوں اور ایک شخص سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں تمہیں معلوم ہے کہ میرا ایک الہام ہے کہ ہم نے ایک مُردہ کو زندہ کیا تھا آؤ اب ہم اس کی آنکھوں میں نور ڈالیں۔اور میں کہتا ہوں کہ یہ الہام ایسے ہی موقع کے لئے تھا اور پھر میں اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں کہ تو نے ہی یہ الہام مجھے کیا تھا اور اب میں اس