خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 448

خطابات شوری جلد دوم ۴۴۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء کی ترمیم ہے کہ یہ حصہ بورڈ کے ماتحت نہ ہو بلکہ اس کے لئے ایک علیحدہ رجسٹرار مقرر کر دیا جائے۔اب جو دوست اس بات کے حق میں ہوں کہ امتحانات بھی بورڈ کے ماتحت ہی رہیں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ہوئے۔فیصلہ اس پر ۱۱۳ کھڑے ہوئے۔اور علیحدہ رجسٹرار کے تقرر کے حق میں ۹۵ احباب کھڑے حضور نے فرمایا: - میں دونوں امور میں کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔صدر انجمن احمدیہ جلد سے جلد ایک ایسے بورڈ کے قیام کے متعلق تفصیلی قواعد بنا کر میرے سامنے پیش کرے۔سلسلہ کے سب امتحانات بھی اس کے سپرد ہوں۔ہمارے بعض امتحانات موجودہ صورت میں صرف ایک شغل معلوم ہوتے ہیں۔بورڈ کے ماتحت آ جانے سے ان کی اہمیت بھی بڑھ جائے گی۔اور ان کے متعلق جماعت میں بھی زیادہ توجہ پیدا ہو جائے گی۔“ تعاونی کمیٹی کی سکیم جماعت کے نادار و پسماندگان کی امداد کے لئے ایک دوست نے تعاونی کمیٹی قائم کرنے کی ایک سکیم بھجوائی جوسب کمیٹی امور عامہ کے زیر غور آئی۔سب کمیٹی نے متفقہ طور پر مجلس مشاورت میں یہ رائے پیش کی کہ یہ سکیم قطعی طور پر نا قابل عمل ہے۔کمیٹی نے اپنی اس رائے کی تائید میں وجوہات بھی بیان کیں۔سب کمیٹی کی رائے اور دلائل پر تبصرہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :- مجھے اس سب کمیٹی کی رپورٹ سن کر ایک تاریخی مجلس یاد آ گئی جو آج سے کوئی تین سو سال قبل منعقد ہوئی تھی۔یہ مجلس پین میں بیٹھی تھی اور سپین کے بادشاہ کی گویا مجلس شور کی تھی اُس کے سامنے یہ سوال تھا کہ ایک شخص کو لمبس نامی یہ کہتا ہے کہ زمین گول ہے اور اگر یہ صحیح ہے تو ہم اپنے جہاز سمندر میں چھوڑ دیں تو وہ چلتے چلتے کبھی ہندوستان پہنچ جائیں گے اور اس طرح اس ملک کے ساتھ ہماری تجارت شروع ہو سکے گی۔اُس مجلس میں لاٹ پادری بھی شریک تھا اس نے کہا انا جیل سے ثابت ہے کہ زمین چپٹی ہے اور جو شخص اس بات پر ایمان نہیں رکھتا وہ خالص کافر ہے۔اور پھر مذہب کو جانے دو جو شخص مذہب سے کوئی مس نہیں