خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 447
خطابات شوری جلد دوم ۴۴۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء لئے۔مدرسین نے اس بات کو سمجھا نہیں اور وہ ہر کتاب رٹو انے لگتے ہیں۔جس کے نتیجہ میں صحت پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے۔میں اس امر کی بھی تصدیق کرتا ہوں کہ مدرسہ احمدیہ بلکہ جامعہ کے طلباء سے ہماری لڑکیاں دینی معلومات میں زیادہ ہیں میں نے ان میں سے بعض کے لکھے ہوئے مضامین دیکھے ہیں جو سلسلہ کے اچھے مصنفین کے پایہ کے ہوتے ہیں۔اگر بعض صورتوں میں ان سے بڑھ نہیں جاتے۔اگر کوئی تعلیمی بورڈ ہوتا تو یہ سب وقتیں اس کے سامنے آتی رہتیں۔مگر اب سارا کام ناظر صاحب کو ہی کرنا پڑتا ہے۔بورڈ ہوتا تو اس میں ہیڈ ماسٹر صاحبان بھی شامل ہوتے اور وہ اس قسم کی دقتیں پیش کرتے رہتے۔“ اس پر چند ممبران نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اس پر حضور نے فرمایا: - اب دوستوں کے سامنے یہ تجویز ہے کہ تعلیمی نگرانی امتحانات کا انتظام اور نصاب کی تجویز نیز مختلف شعبہ جات علمی کو مد نظر رکھتے ہوئے جماعت میں تعلیمی وسعت پیدا کرنے کی غرض سے ایک ایسا بورڈ مقرر کر دیا جائے جو ناظر تعلیم و تربیت کے ماتحت اپنے فرائض سرانجام دیتا رہے اور صدرانجمن کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرتا رہے تا یہ کام صرف ناظر کے ہاتھ میں ہی نہ رہے بلکہ ماہرین فن کے سپرد ہو جائے۔چوہدری فضل احمد صاحب نے اس میں یہ ترمیم پیش کی ہے کہ باقی کام تو بورڈ کے ماتحت رہیں مگر امتحانات کے انتظام کے لئے ایک علیحدہ رجسٹرار مقرر کر دیا جائے جو ناظر صاحب تعلیم و تربیت کے ماتحت کام کرے۔پہلے وہ دوست کھڑے ہو جائیں جو اس بات کے حق میں ہوں کہ ایسا بورڈ مقرر کر دیا جائے جس کا نام خواہ کچھ ہو نام کے لئے یہاں مشورہ کی ضرورت نہیں اس وقت صرف اصولی طور پر اس کے قیام کے متعلق فیصلہ ہو جانا چاہئے۔جو دوست اس کے حق میں ہوں 66 وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۳۴۴ ا حباب کھڑے ہوئے اور اس کے خلاف کوئی نہ ہوا۔حضور نے فرمایا:- ”سب کمیٹی کی تجویز ہے کہ امتحانات کا کام بھی بورڈ سے ہی متعلق ہومگر ایک دوست