خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 449

خطابات شوری جلد دوم ۴۴۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء رکھتا وہ عقل سے اگر کام لے تو بھی اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتا کہ زمین گول ہے۔زمین گول کے یہ معنے ہیں کہ مشرق کی طرف لوگوں کے سر نیچے اور ٹانگیں اوپر ہوتی ہوں گی۔درختوں کے پھل نیچے کی طرف ہوں گے اور وہ بجائے اوپر جا کر اُتارنے کے نیچے جا کر اُتارنے پڑتے ہوں گے۔چار پائیاں بھی نیچے کی طرف لٹکتی ہوں گی۔سب کمیٹی نے بھی اسی قسم کے دلائل دیئے ہیں۔اس نے بعض باتیں فرض کر لی ہیں مگر ان کے لازمی نتائج کا انکار کر دیا ہے۔اس نے فرض کر لیا ہے کہ پانچ ہزار ممبر تین روپیہ دینے والے اور اتنے ہی آٹھ آنہ دینے والے مہیا ہو جائیں گے۔مگر ان کے بعد نہ تو ان میں سے کوئی دینے والا رہے گا اور نہ کوئی باہر سے داخل ہو سکے گا۔اس کمیٹی کے شروع ہوتے ہی سب لوگ پندرہ سال کی عمر میں فوت ہونے لگیں گے اور کوئی بھی جوان نہ ہو سکے گا حالانکہ ہماری جماعت میں ہر وقت لوگ باہر سے داخل ہوتے رہتے ہیں لیکن اگر نئے لوگ داخل نہ ہوں تو بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں اوسط پیدائش وفات سے بڑھی ہوئی ہے۔اس لئے اگر نئے لوگ داخل نہ ہوں تو بھی بڑھتے جائیں گے۔یہ جو دلائل دیئے گئے ہیں یہ دراصل قلت تدبر کا نتیجہ ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ شروع شروع میں اوسط تعداد ممبران گری ہوئی ہوگی کیونکہ بوڑھے، اُدھیڑ عمر کے اور جوان سب شامل ہوں گے مگر بعد میں چونکہ جوان شامل ہوتے جائیں گے اس لئے یہ نقص دور ہو جائے گا مگر ایک دوسرا نقص اس میں ضرور ہے۔اگر ان میں سے فوت ہونے والے تمہیں بھی ماہوار سمجھ لئے جائیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ قریباً ایک ہزار روپیہ سالانہ ہر ممبر کو دینا پڑے گا اور اتنی رقم سالا نہ دینے والے پانچ ہزار ممبر ملنے مشکل ہیں مگر اس میں بھی شک نہیں کہ یہ تحریک دُکھے ہوئے دل کی آواز ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت کو کسی ایسی سکیم کی ضرورت ضرور ہے، اس لئے کوئی نہ کوئی سکیم ہونی چاہئے۔میں نے ایک سکیم پیش کی تھی مگر بعض علماء نے اس کے متعلق کہا کہ وہ مذہبی لحاظ سے قابلِ اعتراض ہے۔گومیرے خیال میں ان کی یہ رائے غلط تھی مگر ان کے احترام کے طور پر میں نے اسے تسلیم کر لیا ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ جماعت مشکلات میں ہے اور ایسی کسی سکیم کی ضرورت محسوس کر رہی ہے اور یہ بات کہ اسلام اس حقیقی ضرورت کو پورا کرنے کا