خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 446

خطابات شوری جلد دوم ۴۴۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء درسگاہوں کے امتحانات کا انتظام ہو جو انگریزی یونیورسٹی سے آزاد ہیں اور جو جماعت میں تعلیم کی وسعت کے متعلق مشورے دیتا رہے اور اس کی تعلیمی ضرورتوں کی تکمیل کا خیال رکھے۔اس کے متعلق جو دوست اظہارِ خیالات کرنا چاہئیں وہ اپنے نام لکھوا دیں۔“ اس پر چند ممبران نے اپنی آراء کا اظہار کیا۔حضور نے فرمایا: - ” ملک غلام فرید صاحب نے جو تقریر کی ہے پہلے تو میں اس کی تصدیق کرتا ہوں میری بھی دولڑکیاں گرل سکول میں اس سال دینیات کا آخری امتحان دے رہی ہیں۔اور میں نے دیکھا ہے امتحان کی تیاری میں وہ بالکل پاگل سی ہو رہی ہیں۔رات کو بارہ بارہ بجے تک ان کے کمروں سے پڑھنے کی آواز آتی رہتی ہے۔اور وہ اتنی محنت کرتی ہیں کہ میں نے لڑکوں کو کبھی کرتے نہیں دیکھا اور بے شک اتنی محنت سے دماغ پراگندہ ہو جاتا ہے۔اور یہ بھی صحیح ہے کہ اس نصاب کی منظوری پر میرے بھی دستخط ہوں گے مگر اس کے متعلق شکایت مجھے بھی ہے وہ اس سکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں اور انہیں یہ بھی خیال ہے کہ ان پر یہ اعتراض نہ ہو کہ تم پڑھاتے نہیں ہو اور اِس لئے اُنہوں نے اس اعتراض سے بھی بچنے کی کوشش کی ہے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ کورس بہت لمبا ہے اور لڑکیوں کی طاقت سے بالا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے جو بورڈ مقرر کیا تھا اس کے سامنے کا لج کی کلاسز بھی تھیں مگر اس نے ایک طرف تو یہ فیصلہ کر دیا کہ کالج کی کلاسز ا بھی نہ کھولی جائیں مگر ساتھ ہی یہ کوشش کی کہ میں نے جو خاکہ پیش کیا تھا اس کا نقشہ بھی قائم رہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ نہ شتر رہا اور نہ مرغ بلکہ شتر مرغ بن گیا۔دوسری بات اس کے متعلق یہ ہے کہ خود امتحان لینے والے لڑکیوں کے لئے اس دقت کا موجب ہو رہے ہیں۔کورس کے بعض حصے تو صرف معلومات میں اضافہ کے لئے ہیں۔ان کو اس طرح رٹوانا درست نہیں۔صرف یہ چاہئے تھا کہ لڑکیوں سے کہہ دیا جاتا کہ ان کتابوں کو غور سے پڑھ جاؤ۔ہمیشہ اعلیٰ جماعتوں میں بعض زائد کتب رکھنی پڑتی ہیں کیونکہ اگر صرف یہی مد نظر رکھا جائے کہ کورس اتنا مختصر ہو جسے آسانی سے یاد کیا جا سکے۔تو وسعت مطالعہ کا فائدہ حاصل ہو سکتا اور اگر ان کتابوں کو رٹوانا شروع کر دیا جائے۔تو اس سے بھی مشکل پیدا ہوتی ہے کچھ لٹریچر صرف پڑھنے کے لئے ہوتا ہے اور کچھ امتحان کے۔