خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 445

۴۴۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء خطابات شوری جلد دوم میں جن کے امتحانات حکومت کے مقررہ افسران لیتے ہیں دینیات وغیرہ کے امتحانات کا انتظام کرنا اور ان کی تعلیمی ضروریات کو سمجھنا مشکل ہو گا اس لئے ایک ایسا بورڈ مقرر کر دیا جائے جو امتحانات کا انتظام کرے اور تعلیمی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے نئی نئی سکیمیں پیش کرتا رہے، اسی طرح نصاب تعلیم میں بھی بہتر سے بہتر اصلاحات ہوسکیں گی اور یہی ان کی تجویز تھی۔اور میرے نزدیک یونیورسٹی کی سکیموں پر بحث کی بجائے یہ زیادہ مناسب ہوگا کہ ہم ایک ایسے بورڈ کے قیام پر غور کریں جس کا کام امتحانات کی نگرانی ، تعلیمی ضرورتوں کا خیال رکھنا اور نصاب مقرر کرنا اور نصاب کے لئے اگر کسی موضوع پر کوئی موزوں کتاب موجود نہ ہو تو وہ لکھوانا ہوتا یہ ٹیکنیکل کام ناظر کے ہاتھ سے نکل کر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلا جائے جو تعلیمی لحاظ سے زیادہ ماہر ہوں۔باقی انگریزی چارٹر کے ماتحت قائم ہونے والی یونیورسٹی کے لئے ہمارے پاس اس وقت نہ روپیہ ہے اور نہ سامان اور اگر آج سے تھیں، چالیس یا پچاس سال بعد ہم کوئی یو نیورسٹی قائم کر سکیں گے تو آج اس کی تفاصیل پر بحثیں کرنا بالکل بے فائدہ ہے۔اس میں شک نہیں کہ بعض امور ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے متعلق ہزار سال قبل بھی غور کرنا ضروری ہوتا ہے مثلاً ابھی ہمیں حکومت نہیں ملی مگر اس کے قواعد اور طریق نظم و نسق کے متعلق میری کتابوں میں بحثیں موجود ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہمیں جو نور ملا ہے، اسے بعد میں آنے والوں کی نسبت ہم زیادہ اچھی طرح پیش کر سکتے ہیں اور چونکہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اس لئے ہم اسے پیش کرتے رہتے ہیں تا آئندہ نسلوں کو فائدہ پہنچ سکے کیونکہ اس بارہ میں وہ ہماری راہنمائی کی بہت زیادہ محتاج ہیں۔لیکن اس سوال کے متعلق کہ آئندہ کبھی یو نیورسٹی ہماری جماعت قائم کرے گی اس کے بیس ممبر ہوں یا چھپیں آج ہمارا بحث کرنا تصیح اوقات ہے۔جب اس کا وقت آئے گا وہ لوگ جو یہ کام کریں گے خود اس پر غور کر لیں گے۔ہمیں صرف ان باتوں میں قبل از وقت بحثیں کرنی چاہئیں جن میں ہماری رہنمائی کے بغیر آئندہ نسلوں کے لئے غلطی کر جانے کا امکان ہے اور یو نیورسٹی کے قیام کا سوال ایسا نہیں اس لئے اس وقت صرف اتنے سوال کو لے لیا جائے کہ آیا کوئی ایسا تعلیمی بورڈ مقرر کیا جانا چاہئے یا نہیں جس کی غرض ایسے امتحانات کا انتظام ہو جو انگریزی یونیورسٹی کے ماتحت نہیں لئے جاتے یا ایسی۔