خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 430
خطابات شوری جلد دوم ۴۳۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء کی شعاع کو اپنے ہاتھ سے پکڑنا چاہے مگر پیشتر اس کے کہ اُس کے ہاتھ اُس تک پہنچیں وہ شعاع کہیں کی کہیں نکل جائے۔پس آؤ ہم اپنے خدا کے آگے عجز اور زاری سے گریں اور اُس سے درخواست کریں کہ وہ اس ناممکن کام کو اپنے فضل سے ہمارے لئے ممکن بنا دے۔ہماری کمزوریوں کو دور کرے اور ہمیں ایسی طاقت اور قوت بخشے کہ اُسی کے فضل اور رحم کے ساتھ اس کے نام کو دُنیا میں پھیلا سکیں، اور دُنیا میں خود پسندی اور خود رائی کے خیالات کو دور کر کے خدا تعالیٰ کی حکومت اور اس کے رسولوں کی حکومت اور اس کے دین کی حکومت کو قائم کر سکیں ، اور ہمارے اپنے نفوس جو منہ زور گھوڑے کی طرح ہمارے قابو سے نکل رہے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر اس طرح بیٹھنے کی توفیق دے کہ وہ منہ زور گھوڑے اُن سیدھے ہوئے گھوڑوں کی طرح بن جائیں جو ہر اُس مقام پر دوڑتے ہوئے پہنچ جائیں جہاں خدا تعالیٰ کے دین کے متعلق استمداد کی آواز اُٹھ رہی ہو اور وہ اس طرح ہمارے اشاروں کے نیچے چلیں کہ کسی ایک موقع پر بھی ان میں نافرمانی کی روح نظر نہ آئے۔لیکن یہ کام ہماری طاقت سے بالا ہے۔خدا ہی ہے جو ایسا کر سکتا ہے، اسے ہر قسم کی طاقتیں حاصل ہیں اور وہ بہت ہی فضل اور رحم کرنے والا ہے۔جب کوئی بندہ اُس کی طرف مجھکتا ہے تو وہ اس کی آواز سنتا اور اس کی دُعاؤں کو قبول کرتا ہے اور جب کوئی شخص اس کے دروازہ کو کھٹکھٹاتا ہے تو وہ اپنے دروازہ کو اس کے لئے کھول دیتا ہے اور کسی سائل کو بھی نا کام نہیں جانے دیتا۔“ افتتاحی تقریر تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- ” اے عزیز و! جو مختلف جہات اور اطراف سے اس مجلس شوریٰ میں شامل ہونے کے لئے جمع ہوئے ہو ہماری ذمہ داریاں اور ہمارے فرائض ایسے نازک ہیں کہ ان کا خیال کر کے بھی دل کانپ جاتا ہے۔وہ نیا آسمان اور نئی زمین بنانے کا کام جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپرد فرمایا تھا اب وہ ان کے ہاتھوں سے منتقل ہو کر ہمارے سپر د کیا گیا ہے۔اور ہم میں سے ہر ایک بلا استثناء وہ شخص ہے جو اس بات کو جانتا