خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 431

خطابات شوری جلد دوم ۴۳۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء ہے اور سمجھتا ہے اور تسلیم کرتا ہے کہ ہم اس کام کے اہل نہیں ہیں بلکہ اس کام سے واقف بھی نہیں ہیں جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔ہمارے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ ہم ایک ایسی عمارت تیار کریں جو دُنیوی عمارتوں کے مقابلہ میں روحانی صفت میں ایسا ہی رتبہ رکھتی ہو جیسے دنیوی عمارتوں میں مثلاً تاج محل مگر ہم تو جھونپڑے بنانے کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔مزدوروں کے چھپر بنانے کی بھی ہم میں طاقت نہیں کجا یہ کہ ہم وہ عظیم الشان عمارت تیار کریں جسے دیکھ کر اگلے اور پچھلے لوگ حیران رہ جائیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام ہماری طرف سے خود ہی کر دے۔جیسے پرانے قصوں میں بیان کیا جاتا تھا کہ جنات لوگوں کے مکان بنا جایا کرتے تھے۔ہماری امیدیں بھی اپنے رب پر ایسی ہی ہیں۔وہ فرضی جن تو لوگوں کے کیا مکانات بناتے تھے البتہ ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم پر یہ رحم کرے کہ جب ہم سور ہے ہوں تو اپنے فضل سے وہ روحانی عمارت دنیا میں خود بخود کھڑی کر دے اور جب ہم جاگیں تو یہ دیکھ کر اُس کے حضور سجدات شکر بجالائیں کہ خدا نے ہم پر رحم کر کے وہ کام خود بخود کر دیا ہے جس کا بجا لانا ہمیں اپنے لئے بالکل ناممکن نظر آتا تھا اور جس کا کرنا ہمیں سخت مشکل دکھائی دیتا تھا۔مگر جہاں ایک حصہ اس کام کا ایسا ہے جو دعاؤں اور عاجزی اور زاری سے خدا تعالیٰ سے کروایا جا سکتا ہے وہاں اس کام کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جو ہمارے ذمہ ہے۔اور جس کی طرف اگر ہم نگاہ نہ رکھیں گے اور اگر ہم اپنے اس حصہ کو پورا کرنے کی کوشش نہ کریں گے تو ہم اللہ تعالیٰ کے اُس فضل کے کبھی مستحق نہیں ہو سکتے جس کی ہم اُمید لگائے بیٹھے ہیں۔اور وہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے کام کے لئے ہمیشہ اہل لوگوں کا انتخاب کرنا چاہئے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا شوری کے نمائندوں کا انتخاب درست ہونا چاہیئے ہے کہ بعض جماعتیں ایسی ہیں جو مجلس شوریٰ میں اپنے اہل نمائندے چن کر نہیں بھجواتیں۔چنانچہ میں نے اس سال کے نمائندگان کی جو لسٹیں دیکھیں ہیں ان میں بعض منافق بھی نظر آئے ہیں، بعض نہایت کمزور ایمان والے بھی مجھے دکھائی دیئے ہیں ، بعض بڑ بولے اور معترض بھی میں نے دیکھے ہیں اور بعض یقینی طور پر ایسے لوگ ہیں جو اپنے اندر بہت تھوڑا ایمان رکھتے ہیں۔اگر