خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 404
خطابات شوری جلد دوم ۴۰۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء تیار کرے۔وہاں کی برف، درخت، چشمے دکھائے جائیں۔اس کی چٹانوں، غاروں اور چوٹیوں کا نظارہ ہوتو چونکہ یہ چیزیں علمی ترقی کا موجب ہوں گی میں اس سے نہیں روکوں گا۔جس چیز کو ہم روکتے ہیں وہ اخلاق کو خراب کرنے والا حصہ ہے اور چونکہ آجکل کی فلموں میں یہ چیز عام ہے اس لئے ہم کسی فلم کے مخرب اخلاق ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ دیکھنے والوں پر نہیں چھوڑتے بلکہ اس بات کو مسلمہ قرار دیتے ہیں کہ سینما میں یہ خرابی موجود ہے۔اور سینما کا آجکل اس قدر رواج ہو گیا ہے کہ اسے زندگی کا جز وسمجھا جانے لگا ہے۔تحریک جدید کے بعد میری ہمشیرہ سے شملہ میں بعض تحریک جدید کا غیروں پر اثر کریک جدید سامیوں کے غیر احمدی اور غیر مسلم معززین کی مستورات نے ذکر کیا کہ یہ تحریک بہت مفید ہے بلکہ بعض نے اس کی کا پیاں منگوا کر تقسیم کیں۔ایک کھانا، سادہ کپڑے، ضرورت سے زیادہ کپڑے نہ بنوانا ان سب باتوں کو ان سب نے بہت پسند کیا مگر سینما کی ممانعت کے متعلق کہا کہ یہ بہت مشکل ہے اسے نہیں چھوڑا جا سکتا۔تو یہ چیز ایسی گھر کر گئی ہے کہ آجکل اسے چھوڑنا بہت مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن اس کی خرابی میں کوئی شک نہیں۔احمدیوں میں بھی بعض ایسے ہیں جو اس ممانعت کو توڑتے ہیں مگر وہ بہت کم ہیں۔لاہور میں ایک شخص نے سینما دیکھا۔دوسرے نے اُسے کہا کہ اس کی تو ممانعت ہے تو اُس نے کہا کہ سات سال کے بعد تو اجازت ہو جائے گی اگر میں نے پہلے دیکھ لیا تو کیا ہوگا۔لیکن اس کی دوبارہ اجازت کا خیال آپ لوگوں کو دل سے نکال دینا چاہئے کیونکہ اس میں روپیہ کے ضیاع کے علاوہ اخلاق کی بھی تباہی ہے پھر اسراف کے حصہ کا تو علاج ہو سکتا ہے مگر اس کے ذریعہ اخلاق کو جو نقصان پہنچتا ہے وہ ایسا ہے کہ اگر کسی کے پاس لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں کھربوں روپیہ بھی ہو میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا اور جب تک فلمیں مخرب اخلاق رہیں گی اس کی ممانعت قائم رہے گی۔اسی طرح جب کسی فونوگراف کے ریکارڈ مخرب اخلاق ہوں تو اس کی بھی ممانعت ہوگی لیکن اگر فلمیں تعلیمی ہوں تو اس کی ممانعت نہیں ہوگی۔اس طرح میں اس بات کے بھی خلاف ہوں کہ کوئی جلوس اس لئے نکالا جائے کہ کوئی اس کی فلم لے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ ہم جلوس نکال رہے ہوں اور کوئی تصویر لے لے، اس۔