خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 405

خطابات شوری جلد دوم ۴۰۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء میں کوئی حرج نہیں۔تکلف اور تصنع سے کوئی کام کرنا درست نہیں اور میں اسے ناجائز سمجھتا ہوں بلکہ اپنے عزیز اور پیارے کی اس میں ذلت سمجھتا ہوں۔“ سب کمیٹی دعوۃ و تبلیغ کی طرف سے یہ تجویز پیش يوم التبلیغ تین مرتبہ منایا جائے ہوئی کہ یوم التبلیغ جو اب سال میں دو مرتبہ ہوتے ہیں اور جن میں سے ایک غیر مسلموں میں تبلیغ کے لئے مقرر ہے آئندہ چار مقرر کئے جائیں یعنی ہر سہ ماہی میں ایک یوم التبلیغ ایسا مقرر ہو جس میں تمام افراد جماعت تبلیغ کیا کریں“۔چند نمائندگان مشاورت نے اس بارہ میں اپنی آراء پیش کیں۔اس کے بعد حضور نے فرمایا: - تجویز یہ ہے کہ یوم التبلیغ سال میں دو مرتبہ ہوتے ہیں آئندہ ان کو چار مرتبہ کر دیا جائے۔سب کمیٹی نے اسے اسی صورت میں منظور کیا ہے۔اب موافق اور مخالف آراء لوگوں نے سُن لی ہیں۔اس لئے جو لوگ اس بات کی تائید میں ہیں کہ دو کی بجائے چار دن 66 کر دیئے جائیں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ تائید میں ۲۰۶ اور مخالف ۷۵ا رائے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جن دوستوں نے موجودہ دودنوں کو دعوت الی اللہ کی ہدایات زیادہ مکمل طور پر منانے پر زور دیا ہے میری اپنی ذاتی " رائے میں اس وقت وہی حق پر ہیں۔قادیان میں میں نے قطعی اور ذاتی طور پر نگرانی کرائی ہے اور میرے نزدیک دس آدمیوں میں سے صرف ایک کام کرتا ہے اور باقی 9 سیر کرتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں بد دیانتی سے نہیں بلکہ دیانت داری سے ان کا جو فعل ہے وہ عبث ہوتا ہے۔جو کام ان کے سپرد کیا گیا ہے اس کی نگرانی کا صحیح انتظام نہیں۔تنظیم نہیں ہوتی ، پارٹیاں بنا دی جاتی ہیں مگر ان کے لئے صحیح ہدایات نہیں دی جاتیں کہ جس جگہ انہوں نے جانا ہے وہاں کے کیا حالات ہیں اور ان لوگوں کی کیا حیثیت ہے بلکہ دعائے خیر پڑھ کر وہ نکل جاتے ہیں اور شام کو واپس آ جاتے ہیں اس سے اصل غرض پوری نہیں ہوتی بلکہ وہ فوت ہو جاتی ہے۔جہاں جماعتیں چھوٹی ہیں وہاں یہ مقصد