خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 403
۴۰۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء خطابات شوری جلد دوم ہے۔اگر میں پہلے ہی یہ کہہ دیتا کہ اس کی ہمیشہ کے لئے ممانعت ہے تو بعض نوجوان جن کے ایمان کمزور تھے اس پر عمل کرنے میں تامل کرتے۔مگر میں نے پہلے تین سال کے لئے ممانعت کی اور جب عادت ہٹ گئی تو پھر مزید سات سال کے لئے ممانعت کر دی اور اس کے بعد چونکہ عادت بالکل ہی نہیں رہے گی اس لئے دوست خود ہی کہیں گے کہ جہنم میں جائے سینما، اس پر پیسے ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔قانون شکن تو اب بھی ہیں مگر اب ایک آدھ فیصدی ہے لیکن اگر میں یہ صورت نہ اختیار کرتا تو چالیس فیصدی ایسے ہوتے خصوصاً کالجوں کے طلباء۔پس یہ خیال کہ دس سال کے بعد اس کی اجازت ہو جائے گی غلط ہے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ کوئی نام اپنی ذات میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا اس لئے یہ کہنا که سینما یا با ئیسکوپ یا فونوگراف اپنی ذات میں بُرا ہے صحیح نہیں۔فونوگراف خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سُنا ہے بلکہ اس کے لئے آپ نے خود ایک نظم لکھی اور پڑھوائی اور پھر یہاں کے ہندوؤں کو بلوا کر سنائی۔یہ وہ نظم ہے جس کا ایک شعر یہ ہے کہ آواز آ رہی ہے یہ فوٹو گراف سے ڈھونڈو خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے پس سینما اپنی ذات میں بُرا نہیں بلکہ اس زمانہ میں اس کی جو صورتیں ہیں وہ مخرب اخلاق ہیں۔اگر کوئی فلم کلی طور پر تبلیغی یا تعلیمی ہو اور اس میں کوئی حصہ تماشہ وغیرہ کا نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔میری یہی رائے ہے کہ تماشہ تبلیغی بھی ناجائز ہے۔ہم جب ولایت میں گئے تو بعض لوگوں نے کہا کہ اذان دیں یا نماز پڑھائیں کہ ہم اس کی تصویر لیں۔مگر میں نے کہا کہ تماشہ کے لئے میں ایسا نہیں کر سکتا۔شام میں جب ہم گئے تو وہاں مولوی فرقہ کے لوگوں کا ایک مرکز ہے۔دمشق میں ان کی باقاعدہ گدی ہے۔مجھے دوستوں نے کہا کہ اگر آپ دیکھنا چاہیں تو انتظام کیا جائے۔اُن کو کچھ پیسے دیئے گئے اور ان کے گدی نشین نے اپنے چالیس پچاس چیلے منگوا لئے اور اُنہوں نے حال وغیرہ دکھایا۔مگر مجھے اس سے شدید نفرت ہوئی کیونکہ انہوں نے یہ تماشہ کے طور پر دکھایا تھا۔پس کوئی حرکت خواہ وہ کتنی اچھی کیوں نہ ہو اگر اس کا مقصد تماشہ دکھانا ہو تو وہ نا جائز ہے۔مگر سینما تو مخرب اخلاق ہونے کی وجہ سے ہی ناجائز قرار دیا گیا ہے۔اگر کوئی شخص مثلاً ہمالیہ پہاڑ کے نظاروں کی فلم