خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 394
۳۹۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء خطابات شوری جلد دوم لوگوں نے جھوٹ بولا تھا لیکن انہوں نے ہماری طرف جو ارادے منسوب کئے وہ بدظنی پر مبنی تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ڈائری میں ایک حصہ غلط رپورٹ کی وجہ سے ہے اور - دوسرا حصہ جو ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عام حالات پر غور کر کے فرمایا ہے۔مشاعرہ واقعات کی مجبوری کی وجہ سے جائز بھی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ ایک قافلہ آیا اور کہا کہ ہم آپ کا امتحان لینا چاہتے ہیں اور اس طرح یہ فیصلہ کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کو قبول کیا جائے یا نہ کیا جائے۔اور امتحان کا طریق ہم نے یہ تجویز کیا ہے کہ ہم اپنے شاعر پیش کرتے ہیں اور آپ اپنے کریں اور ہم فیصلہ کریں گے کہ ان میں کون اچھے ہیں۔اور چونکہ ان کے نزدیک ادبی نشان ایک بڑا نشان تھا۔آپ نے فرمایا بہت اچھا۔اور یہی موقع ہے جب آپ نے حسان بن ثابت کو مقرر فرمایا کہ مقابلہ کریں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا ہے چنانچہ یہ مقابلہ ہوا اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بہتوں کو ہدایت دے دی اور یہ مجبوری ہے اور ایسے حالات میں مشاعرہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔مگر موجودہ حالات میں میری رائے یہی ہے کہ مشاعروں میں تکلف زیادہ پایا جاتا ہے اس لئے بجائے اس کے عام تحریک کر دینی چاہئے کہ دوست شعر کہیں اور اسی رنگ میں اعلان کر دینا چاہئے اور اس طرح جو نظمیں آئیں اُن کو تقریروں کے دوران میں ہی پڑھنے کا موقع دے دیا جائے۔ان نظموں کو پہلے دیکھ بھی لینا چاہئے۔میں نے دیکھا ہے کہ نظم پڑھنے بلکہ تلاوت قرآن کریم کرنے کے وقت بھی بعض لوگ اس بات کا کوئی خیال نہیں رکھتے کہ موقع کیسا ہے۔پھر بعض لوگ نظم کہتے ہیں اور سو دوسو شعر کہہ لاتے ہیں۔سُننے والے جَزَاكَ الله ، جزاک اللہ کہتے جاتے ہیں اور ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا کے واسطے اب بند کرو لیکن نظم پڑھنے والا سمجھتا ہے کہ شاید میرے شعروں سے ان کو بہت مزا آ رہا ہے۔پس نظمیں پہلے سے دیکھ لینی چاہئیں کہ بلا وجہ لمبی نہ ہوں ، خلافِ ادب مضامین ان میں نہ ہوں ، خلاف علم نہ ہوں اور صرف وہی نظمیں پڑھنے کی اجازت دی جائے جو دینی جوش کے ماتحت کہی گئی ہوں۔“