خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 393
خطابات شوری جلد دوم ۳۹۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء میں اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے بعض باتیں کہنا چاہتا ہوں۔نیر صاحب نے اپنی تقریر میں جس مشاعرہ کے انتظام کا ذکر کیا ہے مجھے اپنی عمر کے لحاظ سے بھی اور اس لحاظ سے بھی کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آنے جانے کا زیادہ موقع مل سکتا تھا اس کا زیادہ علم ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انعقاد کرنے والوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اجازت طلب کی تھی کہ ہم ایک مشاعرہ کرنا چاہتے ہیں جس میں دینی اشعار ہوں گے اور لغو باتیں نہیں ہوں گی اور اس طرح ایک رنگ میں دینی خدمت کا موقع ملے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی اجازت دے دی جو میں ہی لے کر آیا۔اس کے بعد وہ پارٹی جو اب لاہور میں بیٹھی ہے اُس کا دستور تھا کہ یہاں خواہ کوئی کام ہو جب تک اُس میں اُن کا دخل نہ ہو وہ اُس میں کوئی نہ کوئی روڑا ضرور اٹکاتے تھے۔انہوں نے جب دیکھا کہ مشاعرہ ہوگا اور نظمیں پڑھی گئیں۔میں نے اس کے لئے جو نظم لکھی تھی وہ مشاعرہ سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سنی تھی اور بعض جگہ مشورے بھی دیئے تھے۔انہوں نے جب دیکھا کہ مجلس مشاعرہ ہوئی اور کامیاب ہوئی تو انہوں نے نہ معلوم کیا خیال کیا کہ اب ہمیں کتنا نقصان پہنچے گا۔اُنہوں نے یہ معاملہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے پیش کیا اور جیسا کہ پیش کردہ ڈائری کے الفاظ میں بھی اس کے متعلق اشارہ پایا جاتا ہے کہا کہ ایسی مجلسوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ طالب علم پڑھائیاں چھوڑ دیں گے ، مدرس پڑھانا ترک کر دیں گے اور اس طرح بہت نقصانات ہوں گے اور اس بات کو اس رنگ میں پیش کیا کہ گویا اب روزانہ یا دو روزه یا سہ روزہ ایسی مجالس منعقد ہوا کریں گی اور اس طرح کے ارادے جب مشاعرہ کرنے والوں کی طرف منسوب کئے گئے کہ سب کام بند ہو جائیں گے اور پڑھائی بھی بند ہو جائے گی تو آپ نے وہ الفاظ فرمائے جو ڈائری میں درج ہیں۔اس کے بعد جب مشاعرہ کرنے والوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یہ تو آپ کی اجازت سے ہوا تھا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے جو اجازت دی تھی وہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے نتیجہ میں طالب علم پڑھنا چھوڑ چھاڑ کر اور استاد تعلیم دینا ترک کر کے اب شعر ہی بنایا کریں گے اس لئے میں نے یہ کہا ہے۔اور ڈائری کے یہ الفاظ اس وجہ سے ہیں کہ ہماری طرف غلط ارادے منسوب کئے گئے اور بدظنی سے کام لیا گیا تھا۔یہ تو میں نہیں کہتا کہ ان