خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 395
خطابات شوری جلد دوم ۳۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء جو بلی کے موقع پر جلوس ایک جویز یہ بھی پیش ہوئی کہ جلسہ جو بل پر قادیان میں ایک بڑا جلوس نکالا جائے۔۱۹۸ نمائندگان نے اس کے حق میں اور ۱۵۶انے اس کے خلاف رائے دی۔اس پر حضور نے احباب کو اسلامی تعلیم کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:- جلوسوں کے متعلق میں عرصہ سے غور کر رہا ہوں اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہماری جماعت جلوسوں اور سفروں کے معاملہ میں بجائے اسلامی تعلیم حاصل کر کے اسے قائم کرنے کے دوسروں کی نقل کی طرف زیادہ مائل ہو گئی ہے اور اس میں اسلامی شعار نظر آنے کے بجائے احراری اور کانگرسی طرز زیادہ نمایاں ہے اور جس رنگ میں اسلام میں جلوس جائز ہیں ہم اس کے خلاف جا رہے ہیں اور اس لئے اسی معاملہ میں ہمیں مزید احتیاط کی ضرورت ہے اور میں سمجھتا ہوں اس بارہ میں ہمیں بعض پابندیاں عائد کر دینی چاہئیں۔ایک نقص تو یہ ہے کہ جلوسوں میں میں نے دیکھا ہے کہ اس رنگ میں اشعار پڑھے جاتے ہیں جو میرے نزدیک اسلامی وقار کے خلاف ہیں۔حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں جب آپ سفر کر رہے ہوتے تو بعض لوگ نظمیں پڑھتے تھے اور بعض کو آپ خود تحریک فرما دیتے تھے بلکہ یہاں تک بھی لکھا ہے کہ جب کوئی شخص نظم پڑھتا تو بعض اوقات آپ فرماتے کہ اللہ تعالیٰ تجھے راحت بخشے۔اور تجربہ سے ثابت ہے کہ جس کے متعلق آپ یہ فرماتے وہ شہید ہو جاتا تھا۔ایک دفعہ ایک شخص نے شعر پڑھے اور آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھے راحت بخشے۔اس کے دوستوں نے اس سے کہا کہ مبارک ہو، اب تم شہادت کا درجہ پا لو گے۔مگر اب ہمارے ہاں جلوس کا جو طریق رائج ہو گیا ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص نظم پڑھتا ہے اور سارا جلوس اس کا جواب دیتا ہے، یہ اسلامی طریق نہیں۔اسلامی طریق یہ ہے کہ جس کا دل چاہے وہ ساتھ پڑھے اور جس کا دل چاہے وہ سنے۔یہ ضروری نہیں کہ سب کے سب پڑھیں۔میرے خیال میں یہ طریق غلط ہے اسی طرح نعروں کے متعلق بھی میں نے دیکھا ہے کہ غلط طریق اختیار کر لیا گیا ہے۔اس کا تعلق بھی جلوس سے ہے اس لئے اس کا ذکر بھی میں یہاں کر دینا چاہتا ہوں۔میری خواہش رہی ہے کہ ہمارے علماء اس کے متعلق اسلامی طریق پیش کریں۔جہاں