خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 392

خطابات شوری جلد دوم ۳۹۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء جو دوست اس تجویز کے حق میں ہوں کہ جھنڈا کے نصب کرنے اور اس کو لہرانے کی تجویز پر عمل کیا جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ تجویز کے حق میں ۳۴۸ جبکہ تجویز کے خلاف ۹ دوستوں نے رائے دی۔اس پر حضور نے فرمایا :- میں بھی کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ دیتا ہوں۔جھنڈا نصب کیا یا لہرایا جائے۔یہ تو ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا قائم رکھا جاتا تھا۔بعض لوگ تو کہتے ہیں کہ اب تک ترکوں کے پاس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا موجود ہے۔یہ صحیح ہو یا نہ ہو بہر حال ایک لمبے عرصہ تک مسلمانوں کے پاس جھنڈا قائم رہا اس لئے اس زمانہ میں جو ابھی احمدیت کا ابتدائی زمانہ ہے ایسے جھنڈے کا بنایا جانا اور قومی نشان قرار دینا جماعت کے اندر خاص قومی جوش کے پیدا کرنے کا موجب ہوسکتا ہے۔پس میں بھی فیصلہ کرتا ہوں اور میرا خیال ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ سے پیسہ پیسہ یا دھیلہ دھیلہ کر کے مخصوص صحابہ سے ایک مختصر سی رقم لے کر اس سے روئی خریدی جائے، اور صحابیات کو دیا جائے کہ وہ اس کو کا تیں اور اس سوت سے صحابی کپڑا تیار کریں۔اسی طرح صحابہ ہی اچھی سی لکڑی تراش کر لائیں۔پھر اُس کو باندھنے کے بعد جماعت کے نمائندوں کے سپرد کر دیا جائے کہ یہ ہمارا پہلا قومی جھنڈا ہے۔پھر آئندہ اس کی نقل کروالی جائے۔اس طرح جماعت کی روایات اُس سے اس طرح وابستہ ہو جائیں گی کہ آئندہ آنے والے لوگ اس کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار ہوں گے۔“ مجلس مشاورت میں یہ تجویز زیر غور آئی کہ جو بلی کے جوبلی کے موقع پر مشاعرہ موقع پر ایک پاکیزہ مشاعرہ بھی منعقد کیا جائے۔نمائندگان کی آراء کے بعد رائے شماری ہوئی ۳۲۴ آراء اس حق میں تھیں کہ تقریروں کے دوران میں ہی نظمیں پڑھ دی جائیں جبکہ ۳۳ آراء با قاعدہ مشاعرہ کے حق میں تھیں۔اس حضور نے کثرتِ آراء کے حق میں فیصلہ دیا اور بعض امور کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:-