خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 391

خطابات شوریٰ جلد دوم ۳۹۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء دیں۔مثلاً مرزا عبد الحق صاحب یا مولوی محمد اسمعیل صاحب ہیں مجھے جہاں تک خود یاد پڑتا ہے جب میر صاحب نے الفضل میں جھنڈے کی تجویز کے متعلق اعلان کیا تھا تو ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک حوالہ بھیجا تھا۔غالبا حضور کی کسی ڈائری کا حوالہ تھا کہ تجویزیں پیش ہوں کہ ہمارا جھنڈا کیسا ہو۔مگر بہر حال اس وقت جو تجویز ہے وہ خلاف شریعت نہیں۔ہم اب صرف یہ دیکھیں گے کہ اس سے ہمیں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے یا نہیں۔جھنڈے کا کام صرف لڑائی میں ہی محدود نہیں بلکہ اس کے اور بھی فوائد ہیں۔مثلاً جھنڈے کے نیچے جمع ہونے کی تحریک مگر اس کے علاوہ اس میں قوم کی عزت کا بھی سوال ہے اور یہ ایک بہت ہی اہم سوال ہے۔چنانچہ ایک جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈے کو خود بنایا اور ایک صحابی کو دیا تو فرمایا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ تم اس کی حفاظت کرو گے اور اس کی عزت کو قائم رکھو گے ہے تو جھنڈے میں قومی عزت کا سوال ہوتا ہے اور قوموں میں اخلاق اور کیریکٹر کو زندہ رکھنے کا احساس ہوتا ہے۔پس جو حصہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوائد کا اُٹھایا وہی ہمارے سامنے ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے جھنڈے کے متعلق فرمایا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ تم جھنڈے کی عزت کو قائم رکھو گے۔تو جھنڈے کے ساتھ قومی اعزاز کا بھی سوال ہے۔۱۸۷۰ء والی جرمنی اور فرانس کی لڑائی میں جب صلح ہوئی تو ایک فوج کے متعلق یہ شرط بھی پیش کی گئی کہ وہ اپنا جھنڈا ہمارے حوالے کر دے۔اس فوج کے افسر نے جب یہ سنا تو اپنے نائب افسر سے کہا کہ اگر چہ فوجی قانون تو یہی ہے کہ ہر معاملہ میں مکمل اطاعت کی جائے مگر یہ بات ایسی نہیں ہے کہ میں اطاعت کر سکوں چنانچہ اُس نے جھنڈے کو آگ لگا دی۔اسی قسم کے احساس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے فائدہ اٹھایا ہے۔پس اس میں جماعت کے لئے اور نوجوانوں کیلئے اور ان کے اندر قومی روح کے احساس کے پیدا کرنے کے لئے بہت سے فوائد ہیں اس لئے میں کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ دیتا ہوں۔دوسرا سوال اس کو نصب کرنے کا ہے اس میں بھی پہلے علماء بیان کریں کہ کیا جھنڈے نصب کیا جانا اپنے اندر کوئی خاص حکمت رکھتا ہے؟ یا اس کے متعلق کوئی سند ہے؟“ مختلف آراء پیش ہونے کے بعد حضور نے فرمایا : -